دوسری شادی کا لڈو کھانا ہوگیا مشکل، عدالت نے بڑی شرط عائد کردی


(سٹی 42) دوسری شادی رچانے کے خواہشمندوں کیلئے بُری خبر، اب انہیں دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کے ساتھ ساتھ مصالحتی سینٹر سے بھی اجازت لینا ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسری شادی کے لیے مصالحتی کونسل سے اجازت لینا ضروری قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی میر کی بریت کے خلاف پہلی بیوی کی اپیل پر سنایا، فیصلے میں کہا گیاکہ بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر مسلم فیملی لاز کے تحت سزا اور جرمانہ ہوگا۔

لیاقت علی میر نے 2011 میں دلشاد بی بی سے پسند کی شادی کی، 2013 میں بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی، عدالت نے لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور5 ہزار جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہو گا، ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کے کیس کا فیصلہ کریں۔