معروف شاعراحمدفرازکی 12ویں برسی

معروف شاعراحمدفرازکی 12ویں برسی

(سٹی 42) معروف شاعراحمدفرازکی آج 12ویں برسی منائی جارہی ہے، احمدفرازکی شاعری آج بھی زندہ ہے۔

شاعراحمدفراز کی عمومی شناخت اُن کی رومانوی شاعری کےحوالےسےہےلیکن وہ معاشرےمیں ہونےوالی ناانصافیوں کےخلاف بھی صدائے احتجاج بلندکرتےرہے۔ جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں جھیلناپڑیں، جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی۔

احمدفرازکےمجموعہ کلام میں ’تنہا تنہا‘، ’درد آشوب‘، ’نایافت‘، ’شب خون‘، ’مرے خواب ریزہ ریزہ‘، ’جاناں جاناں‘، ’بے آواز گلی کوچوں میں‘، ’نابینا شہر میں آئینہ‘، ’سب آوازیں میری ہیں‘، ’پس انداز موسم‘، ’بودلک‘، ’غزل بہانہ کروں‘ اور ’اے عشق جنوں پیشہ‘ کے نام شامل ہیں جبکہ کلام کی کلیات ’شہر سخن آراستہ ہے کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔

احمد فرازکومتعدداعزازات سےنوازاگیاجن میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، ستارہ امتیازاورہلال امتیازسرفہرست ہیں۔ ہلال امتیازکااعزاز انہوں نےسابق صدرجنرل ر پرویزمشرف کی پالیسیوں سےاختلاف کی وجہ سے واپس کردیاتھا۔ احمد فراز کوجامعہ کراچی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی۔

احمد فراز نے 25 اگست 2008ء کو وفات پائی، وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان ایچ ایٹ میں آسودؤہ خاک ہیں۔