ایل ڈی اے نے بلڈنگ اینڈ زوننگ رولز 2019 کو مذاق بنالیا

ایل ڈی اے نے بلڈنگ اینڈ زوننگ رولز 2019 کو مذاق بنالیا

(درنایاب) ایل ڈی اے شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے گورننگ باڈی کے تجویز کردہ بلڈنگ اینڈ زوننگ رولز 2019 کو مذاق بنالیا ، شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے بلڈنگ اینڈ زوننگ رولز میں سٹیل سٹرکچر کی اجازت دینے کیلئے ایک نئی ترمیم تجویز کردی ۔

ایل ڈی اے بلڈنگ اینڈ زوننگ رولز  2019 میں ترامیم کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا، سال دو ہزار انیس میں منظور ہونیوالے قوانین میں ترامیم کرتے کرتے دوہزار بیس آگیا، رولز فائنل نہ ہوئے، ایل ڈی اے نے اب شہر میں ہر قسم کی تعمیرات کیلئے سٹیل سٹرکچر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف ٹاؤن پلانر طارق محمود کی منظوری کے بعد رولز میں نئی شق 10.1 ڈی شامل کرلی گئی ہے، سٹیل سٹرکچر کیلئے سول ڈیفنس کا این او سی اور سٹرکچر انجنئیر کا سرٹیفکیٹ لازم ہوگا۔

 ذرائع کے مطابق چیف ٹاؤن پلانر کی کچن کابینہ کی غلط مشاورت سے رولز میں ترامیم کرنا پڑی ، ماضی میں پلرز پر گھروں کے نقشوں کی منظوری کی غلط روایت ڈالی گئی، پلرز کنسٹرکشن کا فائدہ اُٹھا کر مافیا نے گھروں کو پلازوں میں تبدیل کرلیا۔ ٹاؤن پلاننگ نے ورکنگ پیپر تیار کرکے ایل ڈی اے گورننگ باڈی کو منظوری کیلئے بھجوادیا ہے۔

دوسری جانب ایل ڈی اے نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران کنسٹرکشن انڈسٹری کو سہولیات دینے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی، ون ونڈو سیل پر آن لائن بکنگ کے ساتھ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے ترجیحی کیسز نمٹانے کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری شروع کردی۔

ایل ڈی اے نے ون ونڈو سیل پر آن لائن ٹوکن سسٹم کے اجرا کے بعد پبلک ڈیلنگ کی تجویز پر کام شروع کردیا ہے،چیف سیکرٹری پنجاب کی منظوری کے بعد ای بلڈنگ پلان پراجیکٹ کو نافذ کردیا جائے گا۔ کمرشل ورہائشی، سیمی کمرشل اور انڈسٹریل بلڈنگ پلان کی منظوری تیس روز میں ہوسکے گی، عمارتوں کے لیے واسا، ٹیپا اور محکمہ ماحولیات سات روز میں این او سی جاری کرنے کے پابند ہونگے۔