شہباز شریف گرفتاری سے بچ گئے


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 28 ستمبر تک توسیع کردی۔

لاہورہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی  درخواست پرسماعت کی۔میاں محمد شہبازشریف بینچ کے روبرو پیش ہوئے، ان کے وکیل امجد پرویز نے کمرہ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی آواز کو دبانے کیلئے عالمی تاریخ غداری کے مقدمات سے بھری ہوئی ہے، آئین اور عدالتوں نے ہمیشہ شخصی آزادی کو مقدم رکھا ہے، نیب نے ایک سیٹویوٹائپ وارنٹ گرفتاری پرفارما بنایا ہے، اس سے گرفتاری کی معقول جواز کی نفی ہوگی، گرفتاری کے ریاستی اختیار پر ہمیشہ عدالت نے چیک رکھا ہے۔

دوران سماعت شہباز شریف نے روسٹرم پرآ کر کہا کہ وہ برطانیہ میں تھے جب پتہ چلا کہ کورونا کی وجہ سے آج آخری فلائٹ  پاکستان جا رہی ہے، وہ اسی دن پاکستان واپس آگئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے یہ کہا جائے کہ وہ واپس نہ آنے کے لیے بہانے بنا رہے ہیں، انہوں نے خود سرنڈر کیا۔

شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کمرۂ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس دو منٹ کا ہے، سب واضح ہے، عدالت میں کیس زیرِ التوا ہے، کل پھر مشیرِ احتساب نے پریس کانفرنس کر دی، یہ طے کر کے بیٹھے ہیں کہ شہباز صاحب کپڑے ساتھ لے کر آئیں۔ سپریم کورٹ نے ابھی حال میں ہی ججمنٹ دی ہے کہ جب ریفرنس فائل ہو چکا ہے تو پھر گرفتاری کی کیا ضرورت ہے۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ججمنٹ کے مطابق اگر ایک کیس میں گرفتاری ہو چکی ہو تو دوبارہ گرفتار نہیں کیا جا سکتا، عدالتیں کہہ چکی ہیں کہ یہ اپنی انا کی تسکین کے لیے لوگوں کو جیلوں میں ڈالتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریفرنس فائل ہو چکا ہے، تفتیش مکمل ہو چکی ہے، خواجہ برادران، شاہد خاقان عباسی بھی اس طرح کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ کے بقول یہ بات زبان زد عام ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہونے والےہیں، اس لیے ان کا اندر جانا ٹہر چکا ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں فرد جرم عائد کرنے کا مرحلہ آگیا ہے اور اب گرفتاری بلاجواز ہے۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد شہبازشریف کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28ستمبر تک ملتوی کردی۔