سیشن کورٹ میں بھگدڑ، سر پھٹ گئے

سیشن کورٹ میں بھگدڑ، سر پھٹ گئے

( شاہین عتیق ) سیشن کورٹ میں دو گروپوں کے دوران تصادم، تین افراد انصر، نبیل اور جاوید کے سر پھٹ گئے، دونوں طرف سے اینٹوں اور کرسیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ اسلام پورہ پولیس نے دونوں فریقین کےافراد کو گرفتار لیا۔

تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ میں رانا عرفان ایڈووکیٹ کے چیمبر میں تھانہ ساندہ میں درج ہونیوالے لڑائی جھگڑے کے کیس کے مدعی نوید وغیرہ بیٹھے تھے کہ اچانک مخالف پارٹی کے انصر علی، نبیل جاوید اورغلام عباس وغیرہ سیشن کورٹ آئے۔ جہاں پر دونوں گروپ ایک دوسرے سےگتھم گتھا ہو گئے، دونوں طرف سے اینٹیں اور کرسیاں ماری گئیں۔

سیشن کورٹ میں بھگدڑ مچنے سے تین افراد کے سر پھٹ گئے۔ شور پر سیشن کورٹ کی سکیورٹی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے دونوں گروپوں کے ارکان کو پکڑ لیا اور اسلام پورہ تھانے بھجوا دیا۔ اسلام پورہ پولیس نے دونوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔  

دوسری جانب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا معاملہ پر سبزہ زار کی مہوش نے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کیخلاف اندراج مقدمے کی درخواست دائر کردی۔ ایڈیشنل سیشن جج جہانزیب چٹھہ کی عدالت میں سبزہ زار کی مہوش نے ایس ایچ اوسبزہ زار اور دیگر پولیس اہلکاروں پر الزام لگایا ہے کہ یہ اس کے گھر میں داخل ہوئے، انہوں نے بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں گھر سے قیمتی اشیا اٹھا کر لے گئے۔

 اس نے متعلقہ تھانے درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، مجبوراً سیشن عدالت سےرجوع کیا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ایس ایچ او کے خلاف پرچہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے ایس ایچ او سبزہ زار سے رپورٹ طلب کر لی۔