لاہور فضائی آلودگی میں دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا

(سٹی 42) موسم میں تبدیلی کے ساتھ سموگ کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، لاہور فضائی آلودگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گیا، ائیر کوالٹی انڈیکس 341 تک پہنچ گیا، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے دھویں نے فضا کو زہریلا بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق فضا میں آلودگی کی شرح 80 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے لیکن لاہور میں یہ 300 سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور گزشتہ سال کی طرح ایک مرتبہ پھر فیکٹریوں، گاڑیوں اور کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلائے جانے سے اُٹھنے والے دھویں نے آلودگی کے ساتھ مل کر سموگ پیدا کرنا شروع کردی ہے، سموگ سے وائرل انفیکشن زیادہ ہوگئے، شہری نزلہ، زکام ، بخار اور مختلف وائرل انفیکشنز میں مبتلا ہو رہے ہیں، جو کورونا مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

 محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو سے تین روز تک شہر کا موسم خشک رہے گا، ٹھنڈی ہوا چلنے سے درجہ حرارت مزید کم ہوگیا، آج لاہور شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 اور کم سے کم 17 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ ائیر کوالٹی انڈیکس 341 تک پہنچ گیا۔

شہرمیں دن بدن بڑھتی ہوئی سموگ کو کنٹرول کرنے کیلئے سیف سٹیزاتھارٹی، محکمہ ماحولیات اور سٹی ٹریف پولیس متحرک ہوگئی،  سی ٹی او سید حماد عابد نے سٹی ٹریفک پولیس، محکمہ ماحولیات اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی دو مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی کریں گی جبکہ سیف سٹیزاتھارٹی دھواں چھوڑنےوالی گاڑیوں کی تصاویر روزانہ کی بنیاد پر محکمہ ماحولیات کو فراہم کرے گی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو2 ہزارروپے تک جرمانہ، 3روزتک ضبطگی کی جائے گی۔ 

دوسری جانب محکمہ بلدیات نے سموگ کی مانیٹرنگ کیلئے ڈیش بورڈ قائم کردیا، صوبے بھر سے روز انہ آن لائن رپورٹس وصول کی جائیں گی، 455 لوکل گورنمنٹس،ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز او رکیٹل مارکیٹ کمپنیز اینٹی سموگ سرگرمیوں کی رپورٹس جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔

واضح رہے کہ سموگ دھویں اور دھند کے مرکب کو کہا جاتا ہے جب یہ اجزا ملتے ہیں تو سموگ پیدا ہوتی ہے۔ اس دھویں میں کاربن مونو آکسائید، نائڑوجن آکسائیڈ میتھن جیسے زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں۔