پولیس کے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے، عمران خان کا ردعمل آگیا

پولیس کے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے، عمران خان کا ردعمل آگیا
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پولیس  نےسندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردیں جس میں اب تک73 کارکنان کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر، علی نوید بھٹی، جمشید اقبال چیمہ، ایم پی اے ملک ندیم عباس بارا، یاسر گیلانی ، میاں اسلم اقبال ، ایم پی اے سعدیہ سہیل، اعجاز چوہدری ، میاں اکرم عثمان ، عقیل صدیقی، سابق سیکرٹری اطلاعات فرخ جاویدمون، سابق ڈپٹی سیکرٹری لاہور عامر ریاض قریشی، صدیق مہر ،یوسی چیئرمین امیدوار شیخ محمد حیدر صاحب،  پی ٹی آئی کے بانی رکن ملک اشتیاق  اور دیگر کی رہائش گاہوں پر چھاپہ مارا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماگھر پر موجود نہیں تھے اس لیے ان کی گرفتاری نہ ہوسکی۔پولیس نے لاہور سے اب تک 73 کارکنان کو حراست میں لے لیا ۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے گارڈن ٹاؤن لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کے گھر پر چھاپا مارا تو وہاں یاسمین راشد سمیت دیگر رہنما موجود تھے،  ڈاکٹر یاسمین راشد نےگرفتاری سے بچنے کے لیے زمین پر بیٹھ کر دھرنا دے دیا تاہم پولیس حماد اظہر کی رہائش گاہ سے کسی پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان بھی پولیس ریڈ کی اطلاع ملنے پر حماد اظہر کی رہائش گاہ پہنچ گئے اور انہوں نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، پولیس نے حماد اظہر کے گھر کے باہر سے 10 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ 

دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سندھ و پنجاب میں پارٹی کیخلاف مذمت اور چھاپوں پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ پُرامن احتجاج ہمارے شہریوں کا حق ہے، پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان و رہنماؤں کیخلاف ظالمانہ چھاپوں نے ایک مرتبہ پھرہمیں وہی کچھ دکھایا ہے جس سے ہم واقف ہیں کہ جب بھی اقتدار ہاتھ لگتا ہے تو ن لیگ فسطائیت پراترتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کریک ڈاؤن (کٹھ پتلیوں کی) ڈوریاں تھامنے والوں پربھی سنجیدہ سوالات اٹھارہا ہے جبکہ معیشت پہلے ہی تباہی کے گڑھے میں اتر چکی ہے، ڈاکوؤں اور ان کے آقاؤں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ غیر جمہوری اور سفاکانہ اقدامات معاشی صورتحال میں مزید ابتری کے موجب بنیں گے اور ملک کو طوائف الملوکی کی جانب دھکیلیں گے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مزید لکھا کہ ہماری حکومت کیخلاف پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کے جلوسوں کو روکا گیا نہ ہی ہم نے ان کے کارکنان کیخلاف کسی قسم کی چھاپہ مار کارروائیاں کیں، ڈیموکریٹس اور کلپٹوکریٹس میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔

خیال رہےکہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔