پنجاب بجٹ کی منظوری میں کن اہم مطالبات پر کارروائی ہوگی،مکمل تفصیلات

پنجاب بجٹ کی منظوری میں کن اہم مطالبات پر کارروائی ہوگی،مکمل تفصیلات
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(قذافی بٹ) پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس،بجٹ کی منظوری میں کیا کرنا ہے؟ مسلم لیگ ن کےاراکین نے تیاریاں مکمل کرلیں جبکہ حکومت نے بھی لائحہ عمل مرتب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق  پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج دوپہر2 بجےمقامی ہوٹل میں ہوگا،اجلاس میں آئندہ مالی سال بجٹ پرووٹنگ اورکٹوتی کی تحاریک پر کارروائی دو روز آج اور کل ہوگی،25 جون کو مقررہ وقت پرگلوٹین کے اطلاق کے بعد باقی ماندہ سالانہ مطالبات زر پربراہ راست کارروائی ہوگی،مسودہ قانون مالیات پرکارروائی جمعتہ المبارک 26جون اورضمنی بجٹ پرعام بحث سوموار 29 جون 2020 کوہوگی،ضمنی مطالبات زر پربحث اور رائے شماری منگل 30 جون کوہوگی،مقررہ وقت پر گلوٹین کےاطلاق کے بعد باقی ماندہ ضمنی مطالبات زر پربراہ راست کارروائی ہو گی۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن نے کٹوتی کی تحاریک پرحکمت عملی مرتب کرلی ہے،کٹوتی کی تحاریک پر اراکین اسمبلی کو بحث کےلیےذمہ داریاں سونپ دی گئیں،حکومتی مطالبات زر مسترد کرانےکےلیےبھر پور دلائل دیئے جائیں گے،لیگی اراکین حکومتی کارکردگی کوہدف بنائیں گے۔

واضح رہے کہ   پنجاب  حکومت نے  نئے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا تھا، جس کا کل حجم 23کھرب 60 کروڑ روپے رکھا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیا تو اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں تھیں۔بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے 383 ارب کی رقم مختص کی گئی، پنجاب  کے 68 کالجز میں سہولیات کیلئے 1 ارب 76کروڑ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں بجٹ میں  غیر ترقیاتی بجٹ میں صرف 2 اعشاریہ 60 فیصد اضافہ کیا گیا، ترقیاتی بجٹ میں رواں مالی سال سے47 فیصد اضافہ تجویزکیا گیا۔ زراعت کے لیے 24 فیصد اضافے کے بعد 123 ارب  60 کروڑ روپے رکھے گئے۔ عوامی تحفظ اورامن و امان پر181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنےکی تجویز ہے، تنخواہوں کی مد میں 337ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، پنشن کے لیے 244اعشاریہ 90 ارب روپے مختص کئے گئے۔