ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کا منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا

ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کا منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا

( زاہد چودھری ) ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کے منصوبے کو شدید جھٹکا، سابقہ دور حکومت میں ہسپتالوں کے انتظامی، مالی امور کو بہتر بنانے کیلئے بھرتی کئے گئے 552 افسران کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سابقہ حکومت کے دور میں محکمہ پرائمری ہیلتھ کے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے تحت 25 ڈسٹرکٹ اور 100 تحصیل ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کیلئے ان میں ایڈمن، فنانس، آڈٹ، ہیومن ریسورس، آئی ٹی، پروکیورمنٹ افسران اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز بھرتی کئے گئے۔ ان افسران کی بھرتی کا مقصد ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں کے انتظامی اور مالی امور کو بہتر بنانا تھا تاہم موجودہ حکومت نے ری ویمپنگ کیلئے بھرتی ہونے والوں کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں تعینات افسران کے کنٹریکٹ کو 31 اگست 2019 تک توسیع دی گئی تھی تاہم اب مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور محکمہ پرائمری ہیلتھ کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں کی کیپسٹی بلڈنگ اور ری ویمپنگ کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔