ایک تھی ’’شہلا‘‘

 ایک تھی ’’شہلا‘‘

خاور نعیم ہاشمی

وہ نیو ائر پارٹی میں آئی تھی، ہال میں داخل ہوتے ہی سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

جدید تراش خراش کے لباس میں گوریوں کو بھی مات دے رہی تھی۔ رات کے دس بجنے کو تھے جب شہلا آئی ،پارٹی کا باقاعدہ آغاز ہونے میں ابھی دو گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔شہلا کے آجانے سے گویا وقت ٹھہر گیا،وہ شمع جسے بجھایا جانا تھا اس کی لو تیز ہو گئی،ہر آدمی سوچ رہا تھا کہ رات بارہ بجے شاید لاٹری نکل آئےاور شہلا اس کی ڈانس پارٹنر بن جائے، تھوڑی دیر بعد اچانک چہ میگوئیاں شروع ہو ئیں کہ شہلا غائب ہے، اسے تلاش کرنے کے لئے زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی، وہ بازو والے کمرے میں ایک نوجوان کے ساتھ رازدارانہ گفتگو میں مصروف تھی،اب اس کے کمرے سے باہر آنے کا جان لیوا انتظار شروع ہوا، وہ بار بار کے بلاوے کے باوجود  باہر نہ آ رہی تھی۔

شہلا کو باہر بیٹھے مہمانوں میں واپس لانے کے لئے ہر جتن کیا گیا،لیکن سب کاوشیں بے سود رہیں،نیو ائر کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا، اب بارہ بجنے میں اب صرف دس منٹ باقی تھے،جو لوگ شہلا اور اپنے ساتھی کی ہال میں واپسی کی آخری کوششیں کر رہے تھے، انہوں نے اب بتانا شروع کیا کہ وہ دونوں تو اندر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر رو رہے ہیں، پھر ان دونوں کی زوردار ہچکیاں بھی سنی گئیں، یہ وہ لمحات تھے جب نیو ائر منانے کے لئے جمع ہونے والے سبھی افراد کے چہروں پہ ہوائیاں اڑنے لگیں، کسی کو سمجھ نہ آرہا رھا تھا کہ ماجرہ کیا ہے؟

صرف دس سیکنڈ باقی تھے بارہ بجنے میں کہ وہ دونوں غیر متوقع طور پر کمرے سے باہر نکل آئے،ہال میں زور دار کلیپنگ ہوئی، اس سے پہلے کہ بتیاں بجھادی جاتیں ہال میں ایک زور دار چیخ گونجی۔ شہلا اس پارٹی میں نہیں ناچے گی، کیونکہ شہلا میری بہن ہے۔محفل میں مکمل خاموشی چھا گئی، کوئی کسی سے نظر نہ ملا رہا تھا، سب خود کو گنہگار سمجھ رہے تھے، اس محفل سے سب سے پہلے بھاگا، اعجاز ، شہلا اسی کی وساطت سے یہاں آئی تھی،دوسرے بھی آہستہ آہستہ کھسکنےلگے۔

شہلا اس نوجوان کی بہن نہیں تھی ، شہلا کا سابق خاوند اس نو جوان کے بڑے بھائی کا دوست تھا، وہ اپنے ازدواجی دنوں میں شہلا کے ساتھ ان کے گھر جایا کرتا تھا ،اور چیخنے والا نوجوان شہلا کو باجی کہا کرتا تھا، اور وہ شہلا کی طلاق اور نئی زندگی سے لا علم تھا۔