خاتون کی دہائی پرعدالت نےبچےماں  کےحوالے کردیئے

خاتون کی دہائی پرعدالت نےبچےماں  کےحوالے کردیئے

سٹی 42: خاوند جھوٹی  باتوں پرمار پیٹ کرتاہےاس کےساتھ نہیں رہنا چاہتی,میرے بچےواپس دلوائے جائیں، خاتون کی دہائی پرعدالت نے2بچےماں  کےحوالے کردیئے۔

 تفصیلات کےمطابق  بھٹہ چوک کی رہائشی نجمہ بی بی نےاپنےدوبچوں کی خاوند سےبازیابی کیلئےدرخواست دائر کی تھی،ایڈیشنل سیشن جج سید شہزاد مظفر ہمدانی نے کیس  کی  سماعت کی ،درخواست گزار خاتون نےمؤقف اختیار کیا کہ خاوند اقبال نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اورمیرے دو بچے چھین  لیے،خاتون نے استدعا کی کہ4سالہ بیٹا زین علی اور اڑھائی سالہ بیٹی زینب مجھے دلائے جائیں۔

عدالت کے حکم پر والد بچوں کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا، عدالت نے میاں بیوی کو صلح کا موقع دیا مگر بیوی نے صلح سے انکار کر دیا ،اس کا کہنا تھا خاوند جھوٹی باتوں پرمار پیٹ کرتاہےاس کےساتھ نہیں رہنا چاہتی۔میری برداشت جواب دے گئی ہے، عدالت نے دو بچے والد سے لے کر ماں کے حوالے کر دیئے۔