سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی 12 سالہ بچہ چلانے لگا

ہسپتال کی ایمرجنسی
مریضوں کا چیک اپ

ویب ڈیسک: دنیا بھر میں انسانیت کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے ڈاکٹر کسی مسیحا سے کم نہیں ہوتے اور انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک پروفیشنل ڈاکٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مریض کو مکمل صحت یاب بنانے میں کوشش کرے لیکن افسوس بعض ڈاکٹرز نے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر صادق آباد کی ایمرجنسی 12سالہ بچہ ڈیل کرنے لگا ہے۔ بچہ مریضوں کو انجیکشن بھی لگاتا ہے بی پی بھی چیک کرتا ہے ای سی جی کرتا ہےاور ٹانکے بھی لگاتا ہے۔سینئر ڈاکٹرز نے ایمرجنسی کو 12سالہ بچے کے سر پر چھوڑ دیا ہے۔ ایمرجنسی میں آئے چھوٹے بچوں کو بھی یہی بچہ چیک کرتا ہے۔  12سالہ بچے کے چیک اپ سے مریض کا زخم خراب ہو گیا، مریض کو حادثے کے بعد ایمرجنسی لایا گیا۔

بچےنے کچے ٹانکے لگا کر روانہ کر دیا اور  کچھ ہی دیر میں مریض کے پاؤں پر لگے ٹانگے ٹوٹ گئے۔  12سالہ بچے کے ایمرجنسی میں مریضوِں کو چیک کرنے پر شہریوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔  انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں تین سے چار لڑکوں کو بطور ہیلپر رکھا ہوا ہے۔