چیف جسٹس پاکستان کا صاف پانی کیس میں تفصیلی رپورٹ پیش نہ کرنے پر اظہار برہمی

08:35 PM, 24 Jul, 2018

عطاءسبحانی

ملک اشرف: چیف جسٹس پاکستان کا نیب کے صاف پانی سمیت دیگر پبلک سیکٹر کمپنیوں میں کرپشن کے معاملے پر تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار۔ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو کمپنیوں کے سٹاف کی فہرست پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بنچ نے صاف پانی سمیت دیگر کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کے الزامات پر از خود پر سماعت کی۔ نیب کی جانب سے انکوائری کی پیش رفت کے حوالے سے رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ نامکمل انکوائری پر چیف جسٹس پاکستان نے نیب کی کارکردگی مایوس کن قرار دی۔

اس خبر کو ضرور پڑھیں:نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے بیک ڈور بند کر دیا جائیگا: چیف جسٹس پاکستان

 چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کمپنیوں کے سی ای اوز اور افسران کے اثاثوں کی تحقیقات کیا بنا؟ جس پر نیب  کے پراسیکیواٹر نے بتایاکچھ سی ای اوز کے اثاثوں  سے متعلق انکوائری مکمل ہے۔ 22 جولائی کو افسروں کی فہرست موصول ہونے سے انکوائری میں تاخیر ہوئی۔ نیب کے پراسیکیواٹر نے شکایت کی کہ وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کےعدم تعاون کی وجہ سے  دیگر افسر کی انکوائری نہیں کی جاسکی۔

 چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو فوری طور پرچیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دونوں افسران ذاتی حیثیت سے پیش ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کمپنیوں اور مختلف منصوبوں کے لیے ڈپوٹیشن پر جانے والے افسران کی تمام تر تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزیدخبریں