پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز اپنی ہی حکومت میں زیر عتاب

پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز اپنی ہی حکومت میں زیر عتاب

لوئر مال(راؤ دلشاد) پنجاب حکومت کی شہر کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور چند ٹکٹ ہولڈرز پر نوازشات، قومی اسمبلی کے 8 اور صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں کے پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز اپنی ہی حکومت میں زیر عتاب آگئے۔ ترقیاتی فنڈز سے محروم، قومی اسمبلی کے 14حلقوں میں سے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے 3حلقوں کو 15 کروڑ 90 لاکھ کے ترقیاتی فنڈزجاری کئے گئے۔

لاہور کے 8 قومی اور 21 صوبائی اسمبلی کے پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز نظر انداز، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے شیئر سے صوبائی اسمبلی کے 30حلقوں میں سے 9 حلقوں کو 25 کروڑ کے فنڈز کا اجراء ہوا، ایل ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترقیاتی فنڈز بھی 3 قومی اور 9 صوبائی حلقوں پر نچھاور کردیئے گئے،

 قومی اسمبلی کے حلقوں میں این اے 123 مہر واجد، این اے 124 نعمان قیصر کے حلقے فنڈز سے محروم ہیں، این اے 128 جمشید اقبال چیمہ اور این اے 129 میں عبدالعلیم ذاتی اثرورسوخ کی بنیاد پر ترقیاتی سکیمیں مکمل کررہے ہیں، این اے 131 ہمایوں اختر خان، این اے 132، این اے134، این اے 136 کو ترقیاتی فنڈز نہ مل سکے، پی پی 144 خالد گجر مرحوم، پی پی 145 ملک آصف جاوید، پی پی 146 ملک زمان نصیب، پی پی147 طارق سعادت، پی پی 148 آجاسم شریف، پی پی 150 اصغر گجر، پی پی 153  چودھری خالد، پی پی 154 ملک منصب اعوان، پی پی 155 ملک جاوید اعوان، پی پی 156 میاں افتخار، پی پی 157 ، پی پی 162 اور پی پی 163، پی پی 164 چودھری یوسف ، پی پی 165عبدالکریم کلواڑ، پی پی 166 , پی پی 169 کے حلقے ترقیاتی فنڈز سے محروم ہیں۔

 میاں حماد اظہر، ملک کرامت کھوکھر اور شفقت محمود کے حلقوں میں 15 کروڑ 90 لاکھ کی سکیموں کی منظوری دی گئی، پی پی 151 میاں اسلم اقبال، پی پی  152، پی پی 158 عبدالعلیم خان، پی پی 159 ڈاکٹر مراد راس اور پی پی 160 میاں محمود الرشید کے حلقوں میں فی حلقہ 2 کروڑ 66 لاکھ کے فنڈز جاری کئے گئے، پی پی 161 ملک ندیم عباس بارا، پی پی 167 نذیر احمد چوہان، پی پی 168 ملک اسد کھوکھر اور پی پی 170 چودھری امین کے حلقوں میں فی حلقہ 2 کروڑ 66لاکھ کی منظوری دی جاچکی ہے، پی پی 171 سرفراز کھوکھر کے حلقہ میں بھی 2 کروڑ 66 لاکھ کی منظوری دی گئی۔