بابر اعظم کا بال پکر سے کپتانی تک کا سفر

بابر اعظم کا بال پکر سے کپتانی تک کا سفر

نشتر پارک ( حافظ شہباز علی) 26 جنوری سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی قیادت بابراعظم کریں گے، یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب بابراعظم کسی ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی قیادت کریں گے، دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا پہلا میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی اور دوسرا پنڈی کرکٹ سٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا تاہم بابراعظم کے کرکٹ کیرئیر میں قذافی سٹیڈیم لاہور کا کردار بہت اہم ہے کہ جہاں سال 2007 میں آخری مرتبہ پاکستان آنے والی مہمان ٹیم نے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا، بابراعظم اس ٹیسٹ میچ میں بطور بال پکر گراؤنڈ میں موجود تھے۔ 

کپتان قومی ٹیسٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا ہے کہ کرکٹ نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی سٹیڈیم کھینچ لایا، وہ اپنی خواہش پر 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے، یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ تھا، انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 2 رنز درکار تھے مگر وہ اسٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹے۔ 

بابر اعظم نے کہا کہ انضمام الحق کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں غصے سے بیٹ مارنے کا منظر انہیں آج بھی یاد ہے۔قومی ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ ان کے کرکٹ کیرئیر کا یہ سفر آسان نہیں رہا، دوہزار سات میں بال پکر سے دوہزار اکیس میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کے اس سفر میں انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس دوران انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے بھی سخت محنت کی۔

بابراعظم نے کہا کہ وہ اے بی ڈویلئیرز کے بہت بڑے فین تھے اور 2007 میں جاری سیریز کے دوران وہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ دیکھنے  وہاں موجود رہتے تھے، انہیں آج بھی یاد ہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالرحمٰن کی گیند پر جے پی ڈومنی نے چھکا لگایا تو باؤنڈری کے دوسری طرف کھڑے ہوکر انہوں نے کیچ باآسانی تھام لیا، جس پر کمنٹیٹر این بشپ نے ان کی تعریف کی۔