نواز شریف کی صحت کو خطرات لاحق، محکمہ داخلہ نے اہم فیصلہ کرلیا


(سٹی 42)سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں، ان کے علاج  میں غفلت برتنے کا انکشاف ہوا ہے،محکمہ داخلہ نے  نواز شریف کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔

گزشہ روز سٹی42نے نواز شریف کو دل کا  دورہ پڑنے کی خبر نشر کی،خبر کا چرچا سوشل میڈیا سے ہوتا ہوا حکومت تک پہنچا لیکن حکومت پھر بھی خواب خرگوش سے نہ جاگی ، نواز شریف کو دل کے دورے کی تصدیق میڈیکل رپورٹس سے ہو چکی ہے  مگرحکومت  نواز شریف کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے، ابھی بھی لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں، ان کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں غفلت برتنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ نواز شریف کا ٹراپ ٹی ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود انہیں ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا، میڈیکل بورڈ میں جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل ہیں، میڈیکل بورڈ نے ہسپتال میں داخل کرنے کا کہا لیکن علاج مہیا نہیں کیا گیاجبکہ اس ہسپتال میں کارڈیک کا مکمل سیٹ اپ موجود ہے۔ نواز شریف کو 17جنوری سے دل کی تکلیف ہے۔پی آئی سی کے ڈاکٹروں نے بھی انجیو گرافی نہیں کرائی حالانکہ اس ہسپتال میں تمام مشینری موجود ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پی آئی سی کے ڈاکٹرز کی سفارش پر ایک نیا میڈیکل بورڈ بنایا جائے گا۔ بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں میاں نوازشریف کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کیپٹن ریٹارئرڈ فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ اس پر ورکنگ کر رہا ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین نے بھی نواز شریف کے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی تصدیق کردی، ڈاکٹر بلال زکریا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے تھیلیم سکین میں بھی دل کی تکلیف لاحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔رپورٹس کے مطابق نواز شریف کو ہسپتال میں داخل کرکے اںکی انجیو گرافی ہونی چاہیئے۔دل کا عارضہ پہلے سے لاحق ہو تو ٹراپ ٹی ٹیسٹ پازیٹو آناسنجیدہ معاملے ہے۔

ادھر کوٹ لکھپت جیل میں آج سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقاتوں کا دن ہے، مریم نواز، اہل خانہ سمیت پہنچ چکی ہیں جبکہ اہم مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملاقات کرینگے۔

سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میاں نواز شریف کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے، علاج فراہم نہیں کیا جارہا، خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت ظالمانہ اقدام کر رہی ہے۔ نواز شریف کی صحت کا خیال رکھے ورنہ خرابی ہوگی۔