لاہور ہائیکورٹ کا جنسی ہراساں کرنیوالے افراد کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا عندیہ

لاہور ہائیکورٹ کا جنسی ہراساں کرنیوالے افراد کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا عندیہ

(ملک اشرف) پولیس اہلکار کی جانب سے  بھابھی کو  جنسی ہراساں کرنے کے معاملے پر صوبائی محتسب کے  پولیس اہلکار کو جبری ریٹائر  کرنے کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا, جسٹس جواد حسن نے قرار دیا ہے کہ خواتین کو جنسی ہراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔عدالت نے جنسی ہراساں کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے حوالے سے وکلاء کو معاونت کے لیے طلب کرلیا. 

جسٹس جواد حسن نے دوران سماعت جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ خواتین کو جنسی ہراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔عدالت نے جنسی ہراساں کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے حوالے سے وکلاء کو معاونت کے لیے طلب کرلیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن ہے زاہد صدیق بٹ کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیاگیا کہ پولیس ملازم ہوں۔ بھابھی کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام پر صوبائی محتسب سے رجوع کیا گیا ۔صوبائی محتسب نے ملازمت سے جبری ریٹائر کرنے کا حکم دے دیا۔صوبائی محتسب کے پاس ملازمت سے جبری ریٹائر کرنے کا اختیار نہیں ۔درخواست گزارنے استدعا کی کہ  عدالت صوبائی محتسب کی جانب سے ملازمت سے جبری ریٹائر  کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے ۔

جنسی حراسگی سے متاثرہ مہوش کی جانب سے بھی انمول علی اعوان ایڈوکیٹ پیش ہوئیں اور انہوں نے عدالت کو اگاہ کیا کہ  درخواست گزار کی جنسی ہراساں کرنے سے اس کی بھابھی ذہنی کوفت میں مبتلا ہے  درخواست گزار پہلے بھی اپنی بھابی کو جلانے کی کوشش کر چکا ہے۔درخواست گزار پولیس  اہلکار کی حرکتوں کی وجہ سے خاتون مہوش کا خاوند بھی اسے گھر سے نکال چکا ہے۔

انمول علی اعوان ایڈوکیٹ نے کہا کہ صوبائی محتسب کی برطرفی کی سزا کم ہے زیادہ دی جائے ۔عدالت نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ، سیف الملوک سمیت دیگر  کو عدالتی  معاون مقرر کر دیا ۔جسٹس جواد حسن نے کہا وکلاء عدالت کی معاونت کریں کہ کیا جنسی ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہو سکتے ہیں۔