محکمہ ماحولیات میں مالی بے ضابطگیوں کا بازار گرم

 محکمہ ماحولیات میں مالی بے ضابطگیوں کا بازار گرم

سعدیہ خان: مال مفت دل بے رحم ، محکمہ ماحولیات میں مالی بے ضابطگیوں کا بازار گرم, 2007 سے 2017 تک خریدی گئی اییر مونیٹرنگ مشیزی کو ناقص قرار دے کرسکریب بنا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مال مفت دل بے رحم ، محکمہ ماحولیات میں مالی بے ضابطگیوں کا بازار گرم, 2007 سے 2017 تک خریدی گئی اییر مونیٹرنگ مشیزی کو ناقص قرار دے کرسکریب بنا دیا گیا۔ اعلی افسران نے 2007 سے 2015 میں ماحولیاتی آلودگی جانچنے کے لیے لگائے گئے اییر مونیٹرنگ سٹیشن ناقص بتا کر سکریب بنا دیے۔ 2007 میں ایئر مونیٹرنگ سٹیشن جاپان نے لگائے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ سابق ایڈمن آفیسر توقیر قریشی کی ایما پر مالی سال 2016، 2017 میں 84.534ملین کے نئے اییر پوائنٹرز خریدے گے ایک بار پھر اعلی افسران کی ملی بھگت سے چار سال بعد 84.534 لاگت سے خریدے گے اییر پوائنٹرز کوبھی ناقص ڈیکلیر کرکے سکریب قرار دے دیا گیا۔

2007 میں سکریب قرار دیے گے اییر مونیٹرنگ سٹیشن کی ریپئرنگ کے لیے اب 75 ملین مانگ لیے گے 2007 میں لگائے گئے اییر مونیٹرنگ سٹیشن اگرسکریب تھے تو ان کی ریپرنگ کیسے ممکن؟؟ نئے خریدے گئے ایئر پوائنٹرز ناقص اور سکریب کیسے ہوگئے؟؟ سابق ایڈمن آفیسر توقیر قریشی پر کرپشن، بد عنوانی سمیت دیگر کیسسز کی انکوائری جاری ہے سابق ڈی جی محکمہ ماحولیات اور موجودہ ڈی جی نے کرپشن معمالات پر توقیر قریشی کو معطل بھی کیا توقیر قریشی تاحال محکمہ خریدوفروخت کے معاملات دیکھ رہے۔