ترکی کاامریکا سمیت  10 یورپی سفیروں کو ملک سےنکلنےکا حکم  

Recep Tayyip Erdoğan
Recep Tayyip Erdoğan

ویب ڈیسک : صدر رجب طیب ایردوان نے 10 یورپی سفیروں کو ''پرسونا نان گریٹا'' یا ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے زیر حراست سماجی رہنما عثمان کوالا کی حمایت میں مشترکہ بیان جاری کرنے کے بعد امریکا، جرمنی اور دیگر 8 مغربی ممالک کے سفرا کو ملک سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی تھی ۔

10 سفرا کی جانب سے پیر کو غیر معمولی مشترکہ بیان جاری کیا گیا جو انہوں نے بڑے پیمانے پر اپنے ترک سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پھیلایا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ عثمان کوالا کی مسلسل حراست ترکی پر غلط اثرات مرتب کر رہی ہے۔عثمان  کوالا پر 2013 میں حکومت مخالف احتجاج اور 2016 میں ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

مشترکہ بیان میں امریکا، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سوئڈن نے کافالا کیس کے جلد اور انصاف پر مبنی حل کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پران ممالک کے سفرا کو منگل کو ترک وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔عثمان  کوالاکو 2020 میں غازی احتجاج کے الزامات سے بری کردیا گیا تھا لیکن انہیں گھر پہنچنے سے قبل ہی دوبارہ 2016 کی فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

 یادرہے  انسانی حقوق کے نگراں یورپ کونسل نے ترکی کو حتمی انتباہ جاری  کررکھا ہے  کہ عثمان  کے ٹرائل میں 2019 یورپی انسانی حقوق عدالت کے حکم کے مطابق عمل کیا جائے۔اگر ترکی حکم کی تکمیل میں ناکام ہوجاتا ہے تو 30 نومبر سے 2 دسمبر تک اسٹراسبرگ میں ہونے والے اجلاس میں انقرہ کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ووٹ دیا جاسکتا ہے۔اس کارروائی کے نتیجے میں کونسل میں ترکی کا ووٹنگ کا حق اور رکنیت معطل ہوسکی ہے۔