رانا ثناء اللہ اورکیپٹن (ر) صفدر سمیت 26 لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں لٹک گئیں

رانا ثناء اللہ اورکیپٹن (ر) صفدر سمیت 26 لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں لٹک گئیں

سٹی 42 (شاہین عتیق) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کیس کی سماعت، رانا ثنا اللہ اورکیپٹن ریٹائرڈ صفدرسمیت چھبیس ن لیگی رہنماؤں کی درخواست ضمانتوں پر وکلا کے دلائل مکمل، چار درخواستوں پرمزید بحث پیر کے روز ہوگی۔ 

 

تفصیلات کے مطابق انسداد دیشت گردی کی خصوصی عدالت میں نیب دفتر کے باہرمریم نواز کی پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کیس کی مساعت ہوئی، کیس میں نامزد تیس افراد میں سے رانا ثنا اللہ، خالد فاروق کھوکھر، راو شہاب الدین، سیف الملوک اور مرزا جاوید سمیت چھبیس ن لیگی رہنماؤں کی درخواست ضمانتوں پروکلا کی بحث مکمل ہو گئی، جبکہ چار رہنماوں کی درخواست ضمانتوں پر بحث پیر کوہوگی، عدالت نے تمام رہنماوں کی عبوری ضمانتوں میں چھبیس اکتوبرتک توسیع کردی۔ 

 

درخواست ضمانتوں پر فرہاد علی شاہ، رفاقت ڈوگر، احمدچھچھڑاور دیگر وکلا نے بحث کرتے ہوئے اس کیس کو بددیانتی پر مبنی قرار دیا، وکلا نے کہا کیس میں ان افراد کو بھی نامزد کیا گیا جو موقع پر موجود نہیں تھے۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدرنے کہا کہ کراچی کیس کی انکوائری ہو رہی ہے اس حوالے سے وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ 

 

کیپٹن صفدر نے کہا جو بھی انکوائری مں ثابت ہو گا ہم اس کو تسلیم کریں گے، لیکن انکوائری رپورٹ میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔ 

 ن لیگی رہنماؤں نے ان کے خلاف دائر مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ دہشت گردی عدالت میں درخواست ضمانتوں پرمزید سماعت چھبیس اکتوبر کوہوگی۔