24 نیوز کی بندش کیخلاف ملک گیر احتجاج، فوری بحالی کا مطالبہ

24 نیوز کی بندش کیخلاف ملک گیر احتجاج، فوری بحالی کا مطالبہ

سٹی 42 : 24 نیوز کی بندش کے خلاف ملک گیر احتجاج، مقررین نے خطاب میں سنسر شپ کی شدید مذمت کرتے ہوئے چینل کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا۔

 پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر ملک بھر کی طرح لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے لاہور پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا،جس میں میڈیا بحران کی آڑ میں میڈیا اداروں کی بندش، 24 نیوز کے خلاف حکومت کی انتقامی کارروائی اور ریڈیو پاکستان سے 750 کنٹریکٹ ملازمین کی نوکری سے جبری برطرفی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ 

مظاہرین نے حکومت کی جانب سے غیر اعلانیہ سنسر شپ ، سوشل میڈیا پر پابندیوں سمیت ملک بھر میں 50سے زائد صحافیوں کیخلاف ایف آ ئی اے کی طرف سے مقدمات کے اندراج کو بھی آزادی صحافت پر سنگین حملہ قرار دیا اور اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کا اعلان بھی کیا، احتجاجی مظاہرے کی قیادت پی یو جے کے صدر قمرالزمان بھٹی، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور پی ایف یو جے کے مرکزی خزانچی ذوالفقار علی مہتو نے کی، جبکہ مسلم لیگ( ن) کی ترجمان اور رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری، پیپلز پارٹی پنجاب کے نائب صدر اسلم گل، سنیئر صحافی اور سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم، ریڈیو پاکستان کے سینئر آرٹسٹ اور پرائیڈ آف پرفارمنس راشد محمود، حقوق خلق موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمار جان ، ممبر ایف ای سی اور سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے خورشید عباسی، شبیر مغل، پی یو جے کے جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن، ریڈیو پاکستان سے روبینہ سلہری، غلام سرور بٹ، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین سے عامر حسن، حاجی ابراہیم، لاہور فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری پرویز الطاف ،پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ کے رہنما میاں نصیر، شاہدہ جبیں، سول سوسائٹی کے رہنما عبداللہ ملک، کنوینیر میڈیا لائرز سول سوسائٹی کے شیخ سلطان محمود اور دیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دینے اور 50 لاکھ گھر دینے کا جھانسہ دے کر اقتدار میں آئی تھی، مگر آج اسی حکومت کے دور میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں ادارے بند ہو رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو میڈیا میں نجی ادروں کے مالکان بے روزگاری کی تلوار چلا رہے تھے، وہ ادارے بند کر رہے تھے مگر اب حکومت خود سرکاری میڈیا اداروں میں بے روزگاری کا سو نامی لے آئی ہے، ریڈیو پاکستان سے ایک دن میں 750 کنٹریکٹ ملازمین کو بے روزگار کردیا گیا ہے جبکہ احتجاج کرنے والے ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو شرمناک اور قابل مذمت ہے۔مقررین نے 24نیوز کی بندش کا معاملہ حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ حکومت اداروں کو بند کرنے کی بجائے انہیں بحال کرنے کی پالیسی بنائے۔

علاو ہ ازیں اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا، جس میں 24 نیوز کی نشریات فوری بحال کر نے کا مطالبہ کیا گیا۔سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آج 24 نیوز بند ہے کل اور چینلز بھی بند ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ عوام 55 روز سے اپنا پسندیدہ چینل دیکھنے سے محروم ہیں۔