نئے نوٹوں کے لئے شہری اسٹیٹ بینک کے باہر پہنچ گئے

نئے نوٹوں کے لئے شہری اسٹیٹ بینک کے باہر پہنچ گئے

حسن علی: عید آن پہنچی اور شہری اپنے بچوں کو نئے کرنسی نوٹوں سے عید دینے کے لئے نئے نوٹ زائد پیسے ادا کر کے خریدنے کے لئے اسٹیٹ بنک کی عمارت سے منسلک سڑک پر پہنچ گئے ہیں۔

عید قریب آتےہی شہری نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیےمتحرک ہو گئے، ہرسال ماہ رمضان میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان عیدالفطر کےلیےاربوں روپےکےنئے نوٹ بنکوں کےذریعے عوام کوفراہم کرتا ہے، اس سال کورونا وائرس کےپیش نظراسٹیٹ بنک نےبنکوں کونئےنوٹوں کی فراہمی نہ کرنےکا اعلان کیا تھا تاہم شہرمیں اگر کسی کوبھی نئے نوٹ چاہیں ہوتو وہ باآسانی زائد پیسے ادا کرکے اسٹیٹ بنک کےباہر موجود ایجنٹس سےنئے کرنسی نوٹ خرید سکتے ہیں.

ایجنٹس 10 روپے والےنئے نوٹوں کی گڈی 300 روپےزائد میں فروخت کرتےنظر آتے ہیں،جبکہ 20 روپے والےنئے نوٹوں کی گڈی 350روپے زائدمیں،50 اور100 روپے والےنئے نوٹوں کی گڈی 250 روپے زائدمیں فروخت کرتے رہے ۔  بلیک میں نئے نوٹ خریدنے کےلیے اسٹیٹ بنک کی عمارت سےمنسلک سڑک کا رخ کرنے والےشہری کہتےہیں کہ بچوں کو نئے نوٹوں سےعیدی دی جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں،  تاہم حکومت نئے نوٹوں کی عوام کوفراہمی کو یقینی بنائے ۔

بلیک میں نئے کرنسی نوٹ فروخت کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک گڈی کے بدلے 20 روپے ملتے ہیں جبکہ باقی کے سارے پیسے انہیں نئے کرنسی نوٹ فراہم کرنے والوں کے ہوتے ہیں۔

بلیک میں نئے نوٹ خریدنےکےلیے اسٹیٹ بنک کی عمارت سےمنسلک سڑک کا رخ کرنے والےشہری کہتےہیں کہ بچوں کو نئے  نوٹوں سےعیدی دی جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں،،تاہم حکومت نئے  نوٹوں کی عوام کوفراہمی کو یقینی بنائے ۔

اسٹیٹ بنک کی عمارت کےسائے میں بلیک میں نئے نوٹوں کی فروخت کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سےجاری ہے،جبکہ بلیک میں نوٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔