پی آئی اے کے تباہ ہونیوالے طیارے کے بلیک باکس کا اہم حصہ مل گیا


(سعید احمد) کراچی میں پی آئی اے کے کریش ہونے والے جہاز کا بلیک باکس کا ایک اہم حصہ کوئیک ایکسِس ریکارڈرمل گیا، کوئیک ایکسِس ریکارڈر امدادی کارکن کو ملا۔ امدادی کارکن نے بلیک باکس کا اہم حصہ سول ایوی ایشن حکام کے حوالے کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے کراچی جانیوالا پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی ائیر پورٹ کے قریب گر کرتباہ ہوگیا، طیارہ حادثہ میں 80 افراد جاں بحق ہوگئے، جن کی میتیں جناح اور سول ہسپتال منتقل کردی گئیں جہاں ان کی شناخت کیلئے ڈی این اے کا عمل جاری ہے، طیارے میں عملے کے 7 ارکان ،24 نیوز کے سینئرڈائریکٹر پروگرامنگ انصارنقوی ، پنجاب بینک کے صدر ظفرمسعود،   پنجاب حکومت کے سیکرٹری خالد شیردل سمیت 98 مسافر سوار تھے۔

طیارہ گرنے سے کئی گھروں میں آگ لگ گئی جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی، حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ آگ بجھانے کیلئے  شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے اور امدادی کارروائیوں شروع کردیں ، اطراف کے علاقے سیل ،تحقیقات کیلئے ائیر کموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں کمیٹی قائم،ریکارڈ لے لیا ۔

ذرائع کے مطابق جہاز کے پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاورکے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آگئی، جس میں پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونے کی اطلاع اور میڈیمیڈیکی کال دی تھی، جس پر پائلٹ کو بتایا گیا طیارے کی لینڈنگ کیلئے 2 رن وے دستیاب ہیں، جس کے بعد طیارے کا رابطہ منقطع ہوگیا ۔

پی آئی اے طیارہ حادثہ کی ابتدائی رپورٹ ایوی ایشن حکام کو دے دی گئی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ لینڈنگ گیئر جام ہونے کے بعد پرندوں سے بھی ٹکرایا جبکہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی طیارہ آبادی والے علاقے میں مکانات سے ٹکرا گیا۔رپورٹ کے مطابق جس وقت طیارہ مکانات کی بالائی منزل سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ہونے والا یہ پہلا طیارہ حادثہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی جہاز گر کر تباہ ہوچکے ہیں یا دیگر حادثوں کا شکار ہوچکے ہیں، پی آئی اے کی تاریخ میں طیاروں کو 56 واں حادثہ پیش آیا، حادثات سب سے زیادہ طیارے انجن میں خرابی کے باعث پیش آئے۔