جوہر   ٹاؤن بی او آر سوسائٹی میں دھماکہ، 6 سالہ بچے سمیت 3 جاں بحق

عظمت مجید: جوہر ٹاؤن دھماکے میں رکشہ ڈرائیور اور اس کے کمسن بیٹے سمیت تین افراد جاں بحق ہوگئے، جناح ہسپتال میں 21 زخمیوں کو لایا گیا۔ 5 کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ 7 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

تفصیلات کے مطابق جوہر ٹاؤن میں دھماکے کی اطلاع پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ جائے وقوعہ سے 24 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک خاندان کے پانچ افراد دھماکے کی زد میں آئے۔ تیس سالہ رکشہ ڈرائیور عبدالخالق اور اس کا چھ سالہ بیٹا عبدالحق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ اس کی بیوی اور دو بچے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے باعث  قریبی گھروں کے شیشے  ٹوٹ گئے اور وہاں  قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے بعد ہرطرف خوف وہراس پھیل گیا، شہری کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر آگئے، واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس و ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور دھماکے میں زخمی ہونے والے افرادکو  طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیا  جنکی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

ریسکیو  حکام کا کہنا ہےکہ ابھی  تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ دھماکہ کسی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ہے یا پھر یہ گیس پائپ لائن  کے پھٹنے سے ہوا تاہم سکیورٹی فورسز  اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔

بورڈ آف ریونیو سوسائٹی میں واقع گھر کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ وہ ناشتہ کررہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا اورزمین لرزنے لگی وہ سمجھے کہ زلزلہ آگیا ہے اور گھر سے بھاگ کرباہر نکلے تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے  گاڑیاں تباہ جبکہ بیرونی دیواریں گرگئی تھیں،  گیٹ لٹکنے لگا جبکہ سڑک پر بھی گڑھے پڑچکے تھے۔

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد، کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور اور آئی جی پنجاب نے جناح ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ہسپتال میں زخمیوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی صحت سے متعلق پریشان نظر آئے۔ جناح ہسپتال میں اس وقت 16 زخمی زیر علاج ہیں، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق انہیں بہترین طبی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔