محدود حج کے اعلان کے بعد سعودی حکومت کا پاکستان سے رابطہ

محدود حج کے اعلان کے بعد سعودی حکومت کا پاکستان سے رابطہ

(سٹی42)سعودی حکومت نےمحدود حج کے اعلان کے بعد پاکستان سے رابطہ کیا، سعودی وزیر حج کی وفاقی وزیرمذہبی امور نورالحق قادری سے حج کی میزبانی سے معذرت کا اظہار کیا،باضابطہ سعودی آگاہی کے بعدوزارت مذہبی امور کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا،حج کے خواہشمندوں کی جمع کرائی رقوم کی واپسی کا طریقہ کار طے کیا جائیگا۔

تفصیلات کے مطابق  سعودی وزیر حج و عمرہ  نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، ڈاکٹر صالح بن بنتن نے حج سے متعلق فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا، ترجمان عمران صدیقی کا کہناتھا کہ مذہبی امور اس سال صرف سعودی شہری اور اقامہ ہولڈر ہی حج ادا کریں گے کورونا وبا کے خطرات سے بچنے کے لئےسعودی حکومت نے غیر ملکی حجاج کی میزبانی سے معذرت کر لی۔

وزارت مذہبی امور نے نئی صورتحال کے تحت ہنگامی اجلاس بلا لیا،مذہبی امور عازمین حج کی رقوم کی واپسی سے متعلق طریقہ کار وضع کیا جائے گا، مذہبی امور سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سفیر، سفارتی عملہ اور پاکستان حج ڈائریکٹریٹ امسال حج میں پاکستان کی نمائندگی کر یں گے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے اس سال محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا،سعودی وزارت خارجہ کےمطابق کورونا وائرس کے باعث حج کے دوران شرکا کی تعداد محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سعودی عرب کے باہر سے کوئی شخص حج پر نہیں آئےگا، صرف مقامی افراد کو حج کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے سعودی وزارت حج نے بتایا کہ اس سال حج بیت اللہ داخلی افراد کر سکیں گے،سعودی اور مملکت میں موجود غیر ملکی شہری حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر سکیں گے، سعودی وزارت حج کا کہنا تھا کہ محدود پیمانے پر حج بیت اللہ کا مقصد کورونا وائرس سے بچاو کے لئے ہے۔