سانحہ کراچی، پائلٹ اور ائیر کنٹرولر طیارہ حادثے کے ذمہ دار قرار


(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں پیش آنے والے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی ہے جس میں پائلٹ اور کراچی ائیر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے ملاقات کی اور کراچی طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جبکہ وزیر ہوا بازی نے وزیراعظم کو رپورٹ پر بریفنگ بھی دی۔

ذرائع کے مطابق ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی عبوری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت طیارے کے کاک پٹ کریو نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا جبکہ ائیر ٹریفک کنٹرولر بھی ہدایات پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا، رپورٹ میں حادثہ کی وجوہات میں طیارے میں فنی خرابی کو خارج ازامکان قرارنہیں دیا گیا اور حادثے میں پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے طریقہ کار کو بھی ناکام قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں طیارے کے پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے طیارے میں فنی خرابی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں طیارے کے ڈیٹا فلائٹ ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات، لاہور سے کراچی پرواز کا ائیرٹریفک کنٹرول سے حاصل ریکارڈ بھی میں شامل ہے، حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا ، طیارہ میں سوار 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی سمیت 96 افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ 2 افراد خوش قسمتی سے بچ گئے تھے، بچ جانیوالوں میں صدر پنجاب بینک ظفرمسعود اور ایک مسافر محمد زبیرشامل ہے۔