پولیس افسروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم برقرار

پولیس افسروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم برقرار

ملک اشرف: پولیس تاحال ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے بجلی اور پانی کے 2 کروڑ 39 لاکھ روپے بلوں کی مقروض، ہائیکورٹ کا بلوں کی عدم ادائیگی تک ڈی آئی جی سے ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن تک کی تنخواہیں روکنے کا حکم برقرار، 3 ماہ سے متعلقہ پولیس افسر تنخواہوں سے محروم، پھر بھی بلوں کی ادائیگی نہ کی۔

لاہور ہائیکورٹ میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی میں واقع پولیس دفاتر کے بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کیس تاحال زیرسماعت ہے، عدالت نے بلوں کی عدم ادائیگی تک ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن سے لیکر ڈی آئی جی تک کے پولیس افسروں کی گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں بند کر رکھی ہیں۔ عدالتی حکم کے بعد ایس ایچ او سے ڈی آئی جی تک کے پولیس افسر بغیر تنخواہوں کے گزارہ کرنے لگے۔ 

عدالت نے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث ماڈل ٹاؤن میں واقع پولیس دفاتر کی بجلی کاٹنے کا بھی حکم دیا تھا۔ جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں ماڈل ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی کی درخواست زیر سماعت ہے۔ ماڈل ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے میاں افتخار حسین ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کررکھا ہے کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی میں ایس پی، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کے دفاتر ہیں، ماڈل ٹاؤن سوسائٹی نے پولیس دفاتر کو بجلی اور پانی کے کنکشن جاری کئے ہیں۔

پولیس افسروں کی جانب سے کافی عرصے سے بجلی اور پانی کے بل جمع نہیں کروائے جا رہے، فروری 2020 میں پچاس لاکھ روپے جمع کروائے گئے، پولیس افسروں کے ذمہ اب بھی دو کروڑ 39 لاکھ روپے سے زائد کی رقم واجب الادا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس کو بجلی اور پانی کی مدد میں واجب الادا رقم ادا کرنے کا حکم دے۔