سانحہ ساہیوال،  پنجاب اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی

سانحہ ساہیوال،  پنجاب اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سٹی42)  پنجاب اسمبلی میں سانحہ ساہیوال کی گونج اور شور شرابہ،  اپوزیشن نے جے آئی ٹی رپورٹ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیدی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویز الہیٰ کی زیر صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن نے سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ پر بحث شروع کرنے کا مطالبہ کیا اور  اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے ڈائس کے سامنے آکر احتجاج کیا، اپوزیشن نے سانحہ ساہیوال کیخلاف شدید احتجاج کیا، مسلم لیگ (ن )نے جے آئی ٹی رپورٹ پر بحث کرانے کا مطالبہ کر دیا،اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے شورشرابہ بھی کیا۔

وارث کلو کاکہناتھاکہ سانحہ ساہیوال پر پوری قوم صدمے میں ہے، سارے کام ختم کرکے اس واقعہ پر بات کی جائے، اپوزیشن رکن نے کہا کہ جے آئی ٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر آج ایوان میں بحث کرنے کا اعلان کیا تھا اور جے آئی ٹی کی نامکمل رپورٹ حکومت کی نا کامی ہے۔

وزیرقانون راجہ بشارت کاکہناتھاکہ اس معاملے پر بحث ایجنڈے میں شامل ہے، ایوان اپوزیشن کے کہنےپرنہیں بلکہ قواعدو ضوابط پرچلےگا، محمودالرشید بولے کہ اپوزیشن معاملے پر بحث کرنے کی بجائے فرار ہونا چاہتے ہیں جبکہ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن اراکین چیئر کوڈکٹیٹ نہیں کرسکتے۔

سپیکر پرویز الہیٰ کاکہناتھاکہ ان کیمرہ بریفنگ پہلےہاؤس کو دیں پھر میڈیا کو، طے ہوگیا کل ان کیمرہ بریفنگ ہوگی،وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کا ان کیمرہ سیشن کر لیا جائے ہم ہاؤس کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کو تیار ہیں،اپوزیشن رکن رانا محمد اقبال نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے، پورے پنجاب کی عوام کی نظریں اس ایوان پر لگی ہوئی ہیں۔

سپیکر اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ یہ اجلاس جمعہ تک چلے گا اور جے آئی ٹی کے تحفظات پر کل اور جمعہ کو ضرور بات کریں گے تاہم میڈیا کو بریفنگ نہیں دی جائے گی لیکن حکومتی بل میں تاخیر نہیں ہو گی،اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ہی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے گھریلو ملازمین پنجاب 2018 کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا،جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بل کے متن کے مطابق گھروں میں کام کرنے والوں کو نوکر کے بجائے گھریلو ورکر کہا جائے گا اور گھریلو ورکر کی رضا مندی کے بغیر اُن سے کوئی اضافی کام نہیں لیا جائے گا جب کہ گھریلو ورکرز کے کوائف لیبر انسپکٹر کو فراہم کیے جائیں گے،علاوہ ازیں اسمبلی میں گھریلو ملازمین کے بل سمیت متعدد بل منظور کر لیے گئے۔

اپوزیشن نے تمام حکومتی بل کی مخالفت کی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔