سرکاری کالجوں کے نام تبدیل، نوٹیفکیشن جاری

سرکاری کالجوں کے نام تبدیل، نوٹیفکیشن جاری

اکمل سومرو: دو سالہ بی اے اور ایم اے ڈگری ختم ہونے کے بعد سرکاری کالجوں کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے، حکومت نے پنجاب کے 796 کالجوں کے نئے ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت صوبے بھر کے سرکاری کالجوں کے نام تبدیل کر کے نئے ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے کالجوں میں پڑھائے جانے والے مضامین کے حوالے سے ان کے ناموں میں تبدیلی کر دی ہے جن کالجوں میں بی ایس آنرز فور ائیر پڑھایا جا رہا ہے ان کا نام گورنمنٹ گریجویٹ کالج رکھا گیا ہے۔

جن کالجوں میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کرواتی جا رہی ہے ان کا گورنمنٹ ایسوسی ایٹ ڈگری کالج رکھا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے کالجوں کے پرنسپل کو ہدایت کی گئی ہے کہ کالج کے نئے نام کا بورڈ آویزاں کیا جائے اور کالج کے تمام دفتری کاغذات میں بھی نئے نام کو درج کیا جائے۔

محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے لاہور کے 56 سرکاری کالجوں کے نام تبدیل کیے ہیں اور نئے ناموں کی تفصیلات متعلقہ کالجوں کے پرنسپل کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ 

دوسری جانب ٹیکسٹ بکس پبلشر ایسوسی ایشن نے بورڈ کے خلاف احتجاج منسوخ کردیا ہے۔  پبلشرز کو یکساں نصاب کی کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے تحفظات تھے، بورڈ حکام نے یکساں نصاب کے لیے پبلشرز کو کتابوں کی ایلوکیشن کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بورڈ حکام کی جانب سے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد ٹیکسٹ بکس پبلشر ایسوسی ایشن نے احتجاج منسوخ کردیا ہے۔

پبلشرز کے مطابق بورڈ انتظامیہ نے اردو بازار کے صدر خالد پرویز، زبیر سعید کو کو بطور ضامن شامل کیا ہے، پاکستان ٹیکسٹ بکس پبلشرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہناتھا کہ بورڈ کی جانب سے پبلشرز دشمن پالیسی ختم نہ ہوئی تو دوبارہ احتجاج کی کال دیں گے۔