رشوت لینے والے پولیس افسروں کی موجیں ختم

رشوت لینے والے پولیس افسروں کی موجیں ختم

عرفان ملک: کیسز کی تفتیش میں تاخیر اور رشوت کی شکایات کے پیش نظر تفتیش کے مختص فنڈز کا لاہور میں 3 کروڑ سے زائد سمیت پنجاب بھر میں 17 کروڑ سے زائد کے فنڈز جاری کردئے گئے۔ اس سے پہلے 7 ماہ کے دوران صرف 5 فیصد فنڈز جاری کئے گئے تھے۔

اب کیسز کی تفتیش کے لئے شہریوں کو پیسے نہیں دینا پڑیں گے۔ اے آئی جی فنانس کے تفتیشی فنڈز کے اجرا پر تمام اضلاع کو تفصیلات بھجوانے کے مراسلے کے بعد تفتیشی افسروں کی سنی گئی۔ مالی سال کے پہلے سات ماہ ضلعی افسروں کی جانب سے دبائے گئے 25 کروڑ کے تفتیشی فنڈز میں سے 1 ماہ کے دوران کیسزکی تفتیش کےلئے 75 فیصد فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ 

لاہور کے ٹوٹل ساڑھے 3 کروڑ جبکہ پنجاب بھر کے لئے 25 کروڑ سے زائد فنڈز کیسز کی تفتیش کے لئے مختص تھے جن میں 22 اضلاع نے ایک بھی پیسہ تفتیسی افسران کو جاری نہیں کیا تھا جس سے کرپشن کی شکایات کے انبار لگ گئے تھے۔ ماہ فروری میں لاہور میں 3 کروڑ سے زائد سمیت 17 کروڑ کے چیکس تفتیشی افسران کو جاری کئے گئے۔

آئی جی پنجاب نے کیسز کی تفتیش کے لئے رشوت پر شہریوں کی شکایات پر فنڈز فوری جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ شکایات کے پیش نظر آئندہ فنڈز ضلع افسروں کی بجائے ڈائریکٹ ایس پی انوسٹی گیشن کو بھجوانے کا حکم دیا ہے جس کے لئے اکاؤنٹس بھی کھلوا دیئے گئے ہیں۔ 

واضح رہے اس سے پہلے تفتیشی افسروں کو فنڈز فراہم کرنے کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن کو ضلعی افسر سے فنڈز کی درخواست کرنا پڑتی تھی۔ اعلیٰ افسر اپنی مرضی اور سست روی کی وجہ سے کئی کئی ماہ فائلیں دبائے رکھتے ہیں۔ کیسز میں بروقت فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے تفتیشی افسران تمام بوجھ مدعیان پر ڈال دیتے ہیں۔