لاہور پارکنگ کمپنی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی کروڑوں کی نادہندہ نکلی


(راؤ دلشاد) لاہور پارکنگ کمپنی یومیہ کروڑوں روپے کمانے کے باوجود میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی کروڑوں کی نادہندہ نکلی ، کمپنی نے میٹرو پولیٹن کو طےشدہ ریونیو ماہانہ دینے کے بجائے سرخ جھنڈی دکھانے کی روش برقرار رکھی، ایم سی ایل نے معاملہ حل کرانے کے لیے سیکرٹری بلدیات کو مراسلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اور لاہور پارکنگ کمپنی کے مابین معاہدے کےمطابق 350 سے زائد پارکنگ سائٹس کو کمپنی کے حوالے کیا گیا جو تاحال کمپنی ہی آپریٹ کررہی ہے لیکن کروڑوں روپے یومیہ اکٹھے کرنے کے باوجود ایم سی ایل کو طے شدہ ریونیو فراہم نہیں کررہی،معاہدے کے مطابق لاہور پارکنگ کمپنی سالانہ پانچ کروڑ پچاس لاکھ سے زائدریونیو دینے کی پابند ہے تاہم لاہور پارکنگ کمپنی نےایم سی ایل کو مالی سال 2016 اور 2017 میں کوئی مالی شیئر نہیں دیا۔

دوسری جانب میٹرو پولیٹن کارپوریشن نےمالی سال 2016-17 میں 7کروڑ وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھاجو ایک خواب ہی رہا، میٹروپولیٹن کارپوریشن نے مالی سال 2017-18 کے لیے بھی 7 کروڑ ریونیوو صولی کا ٹارگٹ سیٹ کیا، میٹروپولیٹن کار پوریشن کو مالی سال 2017 اور2018 میں پہلے کوارٹرکی مد میں صرف 17لاکھ اداکیاگیا، مالی سال 2017 - 18کے جون،جولائی،اگست اور ستمبر کی مد میں صرف 17 لاکھ جاری کیے ہیں۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن نے طے شدہ معاہدے کےمطابق ریونیو کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری بلدیات کو مداخلت کے لیے مراسلہ جاری کر رکھا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ سیکرٹری بلدیات کو جاری کیے گئےمراسلہ پر عمل درآمد تک نہیں ہوسکا۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کےوجود میں آنے سے قبل سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے دور میں پارکنگ کمپنی تین ماہ میں ایک کروڑ چالیس لاکھ تک کا شیئر ادا کرتی تھی جبکہ میٹروپولیٹن کار پوریشن کو مجموعی طورپر سالانہ پانچ کروڑ 50 لاکھ تک کا شیئر ملتا تھا لیکن اب کمپنی ایک ایسا منہ زور گھوڑا ہے جو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو ملحوظ خاطر رکھنے کو تیار نہیں۔