رنگ روڈ سدرن لوپ تھری منصوبہ لٹک گیا

رنگ روڈ سدرن لوپ تھری منصوبہ لٹک گیا

جوہر ٹاؤن (درنایاب) بزدار سرکار کے دور میں رنگ روڈ کی سدرن لوپ تھری کو آگے کی بجائے پیچھے دھکا لگنا شروع ہوگیا، فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے ساتھ تعمیراتی معاہدے پر عملدرآمد کا وقت بھی گزرنے لگا، پنجاب حکومت نے معاملہ آگے چلنے تک خطیر فنڈز جاری کرنے سے معذرت کرلی۔

اتھارٹی ذرائع کے مطابق پی پی پی موڈ کے تحت حکومتی شیئر کی مد میں2.6ارب روک لئے، محکمہ فنانس نے رنگ روڈ اتھارٹی کو منصوبے کا سٹیٹس کلیئر ہونے تک انتظار کرنے کی ہدایت کی ہے، رنگ روڈ اتھارٹی اور این ایل سی کے درمیان معاہدہ بھی مسلسل تاخیر کا شکار ہے، 15 ستمبر تک معاہدے پر عملدرآمد کرنا لازم ہے، 15 جون کو ہونے والے معاہدے پر تین ماہ کے اندر اندر عملدرآمد لازم ہے، رنگ روڈ سدرن لوپ تھری پر تاخیر حکومتی عدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 ذرائع کے مطابق رنگ روڈ ایس ایل تھری کی تاخیر کا اثر ایس ایل فور اور ویسٹرن لوپ پر بھی پڑے گا، رنگ روڈ کے پلان کے مطابق رواں مالی سال میں ایس ایل فور کی لینڈ ایکوزیشن شروع کرنا تھی،رواں مالی سال میں ایس ایل تھری پر کام نہ ہوا تو لاگت میں10فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔10فیصد اضافے سے لاگت ساڑھے 10 ارب سے تجاوز کرجائے گی۔

 اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ ایس ایل تھری پر عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں، رنگ روڈ میں آنے والی 5 کنال اراضی کا کیس عدالت میں چل رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بزدار سرکار کے دور میں لاہوریوں کا ایک اور پراجیکٹ رُل گیا، ارینا پراجیکٹ 20 ماہ تاخیر کے باوجود مکمل نہ ہوسکا، ٹیپا کی نااہلی پراجیکٹ کو معاشی اور انتظامی طور پر لے ڈوبی، لاگت میں دوسری مرتبہ اضافہ ہونے سے منصوبہ 2 ارب سے تجاوز کر گیا۔