پی ٹی آئی میں گروہ بندی ایک بار پھر سامنے آ گئی

Sher Afzal Marwat, Public Accounts Committee, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پی ٹی آئی کے اندر گروہ بندی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی۔ شیر افضل مروت نے بتا دیا کہ پارٹی کے بعض لیڈر ان کو  چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چئیرمین نہیں دیکھنا چاہتے انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتوں میں ضلط بیانی کی۔

شیرافضل کمروت نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ  بعض پارٹی رہنما  پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے بانی  کو مجبور کر رہے تھے چیئرمین پی اے سی کیلئے نام تبدیل کریں: 
 شیر افضل مروت نے کہا کہ   ایک ہفتے قبل پارٹی کے دوست بانی پی ٹی آئی سے ملے اور انہیں یہ باور کروا رہے تھے کہ پی اے سی چیئرمین کے عہدہ پر شیر افضل مروت کے تقرر کے لئے  اسپیکر نہیں مان رہے:۔ 
 شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا  کہ پبعض رہنما بانی پی ٹی آئی کے ساتھ  ملاقاتوں میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شب کیلئے میرا نام تبدیل کرنے پر زور دیتے رہے تاہم انہوں نے رہنماؤں کی چال انہی پر الٹ دی۔  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے نام پر پارٹی کے رہنماؤں نے غلط بیانی کی، ایک ہفتے قبل پارٹی کے دوست بانی پی ٹی آئی سے ملے اور انہیں یہ باور کروا رہے تھے کہ پی اے سی چیئرمین کا اسپیکر نہیں مان رہے۔


انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پرپارٹی رہنماؤں نے زور دیا کہ متبادل کا نام دیں لیکن عمران خان نے ان رہنماؤں کی چال انہی پر الٹ دی۔

ان کا کہنا تھاکہ یہ روایت ہے چیئرمین پی اے سی کو اپوزیشن نامزد کرتی ہے، اسپیکر مجھے چیئرمین پی اے سی نامزد نہیں کرتے تو اپوزیشن کوئی کمیٹی نہیں لے گی۔ 

شیر افضل مروت نے کہا کہ  بانی پی ٹی آئی کا مجھ پر مکمل اعتماد ہے، پارٹی کے اندر جو بھی یہ کر رہے ہیں اپنا قد چھوٹا کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے میرا نام لیا، اب یہ رہنما مجبور کر رہے تھے نام تبدیل کریں، بہت سے فیصلوں میں بانی پی ٹی آئی پر دباؤ ڈالا گیا۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو میرے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

گزشتہ دنوں  پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھا۔