شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع

شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع

( ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے ا پوزیشن لیڈر شہباز شریف کی منی لانڈنگ کیس کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع کردی ۔عدالت نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں لمبی توسیع کرنے کی استدعا مسترد کر دی  اور شہباز شریف کےوکیل کو مزید دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔

جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دورکنی بینچ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے ۔ شہباز شریف کی طرف سے امجد پرویز ایڈووکیٹ، اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اور طاہر نصر اللہ وڑائچ ایڈووکیٹ جبکہ نیب کی طرف سے سپیشل پراسکیوٹر سید فیصل رضا بخاری عدالت پیش ہوئے۔اعظم نذیر تقرڈ ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ شہباز شریف کیخلاف احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ریفرنس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ریفرنس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی ہے، احتساب عدالت میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر سید فیصل بخاری نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدالت کارروائی شروع کرے۔اعظم نذیر تارڈ ایڈوکیٹ نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات  فراہم نہیں کی گئیں، شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات کو ریکارڈ پر لانے کا حکم دیا جائے،بار روم میں بڑی باتیں گردش کر رہی تھیں کہ نیب کی ٹیم آج شہباز شریف کو گرفتار کرنے آئی ہے، گرفتاری کی وجوہات سے کوئی پاک بھارت تعلقات خراب ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔

شہباز شریف بیرون ملک ہونے کے باوجود واپس آئے، 41/ 42 روز شہباز شریف نیب کی حراست میں رہے، اس وقت اس کیس کو چلانے کا متحرک نہیں کیا گیا،اعظم نذیر تارڈ ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہباز کو ایک امتحان پاس کرنے کے بعد دوبارہ نیب نے طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ،جسٹس سردار احمد نعیم نے اعظم نذیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیس کے دلائل شروع تو کریں۔اعظم نذیر تارڈ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ  شہباز شریف کیخلاف 58 جلدوں پر مشتمل ریفرنس دائر کیا گیا ہے،ریفرنس کے باوجود نیب کو شہباز شریف کا جسم کیوں درکار ہے؟

جسٹس سردار احمد نعیم نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بتائیں ملزم شہباز کو کیوں گرفتار کرنا ہے، نیب پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ تفتیش ابھی جاری ہے، شہباز شریف کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں، شہباز شریف نے ہمیشہ کہا کہ جب وہ باہر جائیں گے تو تفصیلات لا کر بتائیں گے، شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے باوجود شہباز شریف ابھی بھی موجود ہے، عدالت کے سامنے موجود میاں شہباز شریف بولے میں بیان حلفی دینے کو بھی تیار ہوں کہ نیب حکام نے مجھے میری حد تک تفتیش مکمل ہونے کا کہا تھا۔

پورے ملک میں شور ہے کہ اے پی سی کے بعد شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا، گرفتاری کی وجوہات کے بغیر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں، جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ عبوری ضمانت میں کیوں گرفتاری کی وجوہات کی ضرورت ہے؟ اعظم نذیر تارڈ بولے قانون کے مطابق شہباز شریف کا حق ہے،جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ آپ کیس اوپن تو کریں۔اعظم نذیر تارڈ نے جواب دیا شہباز شریف کی آزادی خطرے میں ہے۔

  شہباز شریف کے دوسرے وکیل امجد پرویز موقف اختیار کیا کہ 7 نومبر 2017ء میں چیئرمین نیب نے پنجاب کی 56 کمپنیوں کی تشکیل پر شہباز شریف کیخلاف حکم دیا، سابق  چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے بھی نیب کی پولیٹیکل انجینئرنگ سے متعلق ریمارکس دیئے تھے،چیئرمین نیب نے غیر قانونی طور پر یک جنبش قلم سے شہباز شریف کیخلاف انکوائری کی منظوری دے دی، ڈی جی نیب پنجاب کو پنجاب کی تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں کی انکوائری کرنے کا اختیار دیا گیا۔

جسٹس سردار احمد نعیم نے امجد پرویز ایڈوکیٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس سے متعلق حقائق کیا ہیں وہ بتائیں۔امجد پرویز ایڈوکیٹ نے  کہا کہ شہباز شریف کیخلاف ایک محب وطن پاکستانی کی طرف سے نیب کو درخواست موصول ہوئی،نیب نے بطور وزیراعلی پنجاب طلب کیا جس پر ملزم نے لبیک کہا، 4 جولائی 2018ء کو حمزہ شہباز اور شہباز شریف کیخلاف رمضان شوگر ملز انکوائری شروع کی گئی۔

جسٹس سردار احمد نعیم نے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز گندے نالے تعمیر کیخلاف درخواست کس نے دی،امجد ہرویز ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ

اس میں ریفرنس دائر ہو چکا ہے،5 اکتوبر 2018ء کو صاف کمپنی کی انکوائری میں شہباز شریف پیش ہوئے تو انہیں آشیانہ اقبال ریفرنس میں گرفتار کر لیا گیا، صاف پانی کمپنی کا ریفرنس بھی دائر ہو چکا ہے مگر اس میں شہباز شریف ملزم ہی نہیں ہیں، شہباز شریف کو جب بھی نیب نے طلب کیا وہ پیش ہوتے رہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہآشیانہ میں گرفتاری سے 8 ماہ پہلے مشکوک ترسیلات کی انکوائری شروع ہو چکی  تھی، جب محسوس ہوا کہ آشیانہ کیس میں گرفتاری کی وضاحت نہیں ہو سکتی تو رمضان شوگر ملز ریفرنس میں گرفتاری ڈال دی، 10 نومبر 2018ء میں رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی، 18 جنوری 2018ء سے نیب کے پاس آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری جاری تھی اسی دوران آشیانہ اور رمضان شوگر میں زیر حراست تھے۔

شہباز شریف کے وکیل نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 6 دسمبر 2018ء کو شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا، 14 فروری 2019ء میں لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اور رمضان شوگر ملز میں ضمانت منظور کی، لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے آبزوریشن دی کہ ملزم شہباز نے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا، چیئرمین نیب نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کروا دیا۔

 آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری میں 14 فروری 2019ء کو شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کروایا گیا، 26 مارچ 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا میمورنڈم غیر قانونی قرار دے دیا، نیب نے شہباز شریف کے جیل میں موجود ہونے پر بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں انکوائری کیلئے طلب نہیں کیا۔

23 اپریل 2020ء کو شہباز شریف کو طلبی کے نوٹس بھجوائے گئے، اس دوران اعظم نذیر تارڈ نے عدالت سے مخاطب ہوتے کہا کہ۔اگر عدالت کی اجازت ہو تو شہباز شریف کرسی پر بیٹھ جائیں؟ جسٹس سردار احمد نعیم نے کہاجی کیوں نہیں، بیٹھ جائیں، یہ پاکستان میں ہی ہے کہ ملزم کھڑا رہتا ہے، اعظم۔نذیر تارڈ ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی جی سر! پاکستان میں ہیں ایسا ہوتا ہے، دیگر ممالک میں تو وکیل اور ملزم سبھی بیٹھے ہوتے ہیں۔

2 جون کو لاہور ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی، 28 مئی 2020ء کو چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کر کے چھپا کر رکھ لئے تھے، 3 جون کو عدالت نے عبوری ضمانت منظور کر لی اور 9 جون کو شہباز شریف نیب میں پیش ہوئے، احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہو چکا، ریفرنس کی کاپیاں تمام ملزموں کو فراہم کی جا چکی ہیں، میں نے حقائق پیش کر دیئے ہیں،عدالت نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں لمبی توسیع کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔