انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

 انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

(ملک  اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کیلئے قانون سازی کرنے کاحکم دے دیا ۔عدالت کی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی کرنے کاحکم، جسٹس شجاعت علی خان نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا .

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے شہباز اکمل جندران  کی درخواست پر  تحریری حکم جاری کیا۔تحریری فیصلہ میں حکم دیا گیا ہے کہ  وائس چانسلر یو ایچ ایس ، نشر میڈیکل کالج کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ،،پنجاب یونیورسٹی اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ، سیکرٹری قانون،پنجاب حکومت کے سیکرٹری اور عدالتی معاون نوشاب اے خان ایڈووکیٹ کو قانون سازی کیلئے کمیٹی میں شامل کیا جائے۔

تحریری فیصلہ میں مزید حکم دیا گیا ہے کہ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے ایک سے دو ہفتے میں قانون سازی کیلئے اجلاس بلانے کی یقین دہانی کروائی ہے،   عدالتی معاون نے موقف اختیار کیا کہ پولیس رولز کے تحت لاوارث لاشوں کیلئے کوئی ایس او پیز تیار نہیں کئے گئے، مناسب قانون سازی کے بغیر لاوارث لاشوں کی سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں کو حوالگی کا معاملہ حل نہیں کیا جا سکتا۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مؤقف میں بتایا گیا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لاشیں عطیہ کی جاتی ہیں، پاکستان میں لاشوں کے عطیہ  کرنے کےامر کو عجوبہ تصور کیا جاتا ہے۔درخواست گزار  شہباز اکمل جندران کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ   انسانی نعشوں کی سپلائی اور خریدوفروخت میں سرکاری ادارے بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ نعشوں کے لین دین میں ملوث سرکاری ادارے ایک دوسرے پر تحریری الزام عائد کرنے میں ملوث ہیں ۔

صوبے میں ایم بی بی ایس کے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کے لئے انسانی نعشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایم بی بی ایس کے طلبہ انسانی نعشوں پر پریکٹیکلز اور تجربات کرتے ہیں ۔ طلبہ کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کو انسانی نعشوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو کہ پولیس مہیا کرتی ہے ۔

گزشتہ دو برسوں میں 15 انسانی نعشیں پولیس نے فراہم کیں۔ دو برسوں میں چار نعشیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو فراہم کی گئی ہیں ۔ انسانی نعشوں کو میڈیکل کالجوں یا یونیورسیٹیوں کے حوالے کرنے کا قانون نہیں ہے۔گزشتہ دو برسوں کے دوران کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سمیت کسی بھی سرکاری یاپرائیویٹ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کو انسانی نعش فراہم کی ہے۔

علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ پولیس اور مینٹل ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ انسانی نعشیں فراہم کرتے ہیں۔گزشتہ دو برسوں کے دوران علامہ اقبال میڈیکل کالج سمیت کسی بھی کالج یا یونیورسٹی کو انسانی نعش فراہم نہیں کی۔

انسانی نعشوں کی فراہمی کے متعلق سرکاری اداروں کے تحریری موقف نے ابہام پیدا کر دیا۔ انسانی نعشوں کی خریدو فروخت کا گھناؤنا کاروبار صوبے میں چمکنے لگا ہے۔گھناونے کاروبار میں ملوث افراد ابہام سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں اور صوبے میں انسانی نعشوں کا کاروبار عام ہوگیا۔

صوبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالج پانچ لاکھ روپے تک انسانی نعشیں خریدنے لگے۔ سب سے زیادہ فروخت لاوارث اور ناقابل شناخت انسانی نعشوں کی ہوتی ہے۔درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔