ناقص تفتیش ،پولیس افسروں کی ناہلی ،بچوں سے زیادتی کے ملزم آزاد

ناقص تفتیش ،پولیس افسروں کی ناہلی ،بچوں سے زیادتی کے ملزم آزاد

علی ساہی :معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی وبدفعلی کےملزمان لاہورپولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے آزاد،پولیس نےزیادتی وبدفعلی کےکیسز میں صرف گیارہ فیصدکےڈی این اے سیمپلزلےکرلیب کو بھجوائے،آئی جی پنجاب صوبے کےتمام بڑے شہروں کےکمانڈرز کی کارکردگی سے نالاں ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے پولیس کوبچوں کے کیسزپرخصوصی توجہ دینےکےاحکامات بارہا جاری کیےگئے لیکن اسکےباوجود لاہور پولیس کی خاطرخواہ کارکردگی سامنے نہیں آئی،پولیس کےاپنےاعدادوشمار کےمطابق ایسے کیسزمیں سنگین غفلت سامنےآئی ہے،شہرمیں پہلےساڑھے 3 ماہ کےدوران رپورٹ ہونےوالے26کیسزمیں صرف3کے ڈی این اےسیمپلزلےکرفرانزک کےلیےپی ایف ایس اے کو بھجوائے گئےجوکہ پنجاب میں کسی بھی ضلع کی سب سے کم تعداد ہے۔

جبکہ دیگر بڑے شہروں کی بات کی جائےتوسیمپلنگ کاتناسب اکتیس فیصد ہے،آئی جی پنجاب نےانویسٹی گیشن پولیس کی ناقص کارکردگی پراظہارناراضگی کرتے ہوئےلاہورپولیس کوایسے کیسزمیں تمام تفتیشی نقائص دورکرنےکاحکم دیا ہے،پولیس کی عدم دلچسپی اس بات سےعیاں ہوتی ہےکہ زیادہ تر کیسزمیں ملزمان کوابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا جو کہ کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سےکم عمر بچے وبچیوں سے زیادتی کےکیسزکو حل کرنے میں اگرایسی ہی غفلت برتی گئی تودرندہ صفت ملزمان کی حوصلہ افزائی ہوگی جوکہ کلیوں کوکھلنےسے پہلے ہی مسل دیتےہیں۔

یاد رہے چند روز قبل لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں زیادتی کے بعد قتل کیے گئے بچے کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم مقتول بچے کا رشتہ دار ہے۔پولیس کے مطابق بچہ گھر سے باہر چیز لینے کزن کے ساتھ گیا تھا، دکان بند ہونے کی وجہ سے کزن لوٹ آیا لیکن مقتول بچہ دوسری دکان کی طرف چلا گیا۔ایسے کئی ملزم ہیں جو آزاد پھرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے نوٹس لینے کے بعد پولیس ایکشن میں آئی اور قتل میں ملوث مبینہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔