پاکستان میں موبائل فون بنانے کا فیصلہ

پاکستان میں موبائل فون بنانے کا فیصلہ

(مانیٹرنگ ڈیسک)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جی ٹونٹی ممالک اور پیرس کلب سے قرضوں کو موخر کرانے کے لیے معاہدہ کرنے کی منظوری دے دی,  پاکستان کو دو ارب ڈالرز کا ریلیف ملنے کا امکان.مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کمرشل قرضوں کو مؤخر کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا.

تفصیلات کے مطابق شیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا،  ای سی سی نے جی 20 ممالک سے قرضوں کو مؤخر کرانے کا معاہدہ کرانے کی منظوری دے دی ہے، اقتصادی امور ڈویڑن پیرس کلب اور جی ٹوئنٹی ممالک سے معاہدہ کرے گا  اور جی ٹونٹی ممالک سے پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زیادہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کمرشل قرضوں کو موخر کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا پاکستان دو طرفہ معاہدوں کی پاسداری کرے گا ، ای سی سی نے سپریم کورٹ کی عمارت کی مرمت کے لیے 36 کروڑ روپے اور  وزارت ہاؤسنگ کے لیے تین ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمیں شروع کرنے اور  پی ڈبلیو  ڈی کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 29 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

ای سی سی نے پاور سیکٹر کے قرضوں پر سو دکی ادائیگی کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی اور  آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز کے معاملے پر مذاکراتی کمیٹی کے ٹی او آرز منظور کرلیے گئے ،موبائل فونز مینوفیکچرنگ پالیسی کے لیے وفاقی وزیر حماد اظہر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی،  ای سی سی نے وزیر اعظم کورونا ریلیف پیکیج پر پالیسی کمیٹی قائم کردی گئی کمیٹی کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان کریں گے ۔

اس سے قبل حکومت پاکستان موبائل فون  نے سمیں،  سمارٹ کارڈز اور اے  ٹی ایم کارڈز  پاکستان میں بنانے کے لیے ٹیکنالوجی منگوئی تھی۔