ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

(یاور ذوالفقار) لاہور ہائیکورٹ نے درخت نہ لگانے والی فیکٹریوں کے این او سی منسوخ کرنے، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نقشے پاس نہ کرنے اور درخت کاٹنے والوں کو بھاری جرمانہ کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس جواد حسن نے شیخ عاصم کی درخواست پرسماعت کی ، سی ای او فاریسٹ اربن پالیسی خالد شیر دل، ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات شاہد اعوان، اسسٹنٹ اٹارنی سعدیہ ملک، رجسٹرار کوآپریٹو کرن خورشید، اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رائے شاہنواز پیش ہوئے، جسٹس جواد حسن نے حکم دیا کہ درخت نہ لگانے تک کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نقشہ پاس نہ کیا جائے، کوئی درخت نہ کاٹے، جو کاٹے گا اسے 50 ہزار یا ایک لاکھ جرمانہ کیا جائے، درخت نہ لگانے والی فیکٹریوں کے این او سی منسوخ کردیئے  جائیں۔

جسٹس جواد حسن نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ یہ پاکستان کےمستقبل کا کیس ہے، فیکٹریوں والے عدالت آئے تو حکم امتناعی بھی نہیں ملے گا، سوسائٹی میں گھر تعمیر کرنے والا ہر شہری 2 درخت لگائے۔

انہوں نے کہا کہ 70سالوں میں درخت لگانے والوں کے حوالے سے موثر کام نہیں کیا گیا، جو اقدامات اٹھا رہا ہوں، اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، عدالتی حکم میں اچھا کام کرنے والوں کی تعریف کریں گے۔