پیٹ کیوں موٹا؟ ریسکیو اہلکار کو دیا گیا شوکاز نوٹس معطل کرنیکا حکم

پیٹ کیوں موٹا؟ ریسکیو اہلکار کو دیا گیا شوکاز نوٹس معطل کرنیکا حکم
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(یاور ذوالفقار)لاہور ہائیکورٹ میں پیٹ موٹا ہونے کی بنا پر ریسکیو اہلکار کو دیا گیا برطرفی کا شوکاز نوٹس دینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہو ئی ،  عدالت نے ریسکیو اہلکار کو دیا گیا شوکاز نوٹس معطل کرنے کے حکم میں 2فروری تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس شجاعت علی خان نے ریسکیو اہلکار محمد فضل مقیم کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ عدالت نے ڈی جی ریسکیو کو 10 اکتوبر کو جواب جمع کرانے کا حکم  دیاتاہم ابھی تک جواب جمع نہیں کروایا جا رہا ہے، ڈی جی ریسکیو نے پیٹ موٹا ہونے کی بنیاد پر برطرفی کا شوکاز نوٹس دیا تھا جبکہ درخواستگزار پر ایک دن وردی نہ پہنے اور ایک دن چھٹی کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

درخواست گزار وکیل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ درخواستگزار پر لگائے گئے تمام مضحکہ خیز اور معمولی الزامات 2013 کے ہیں، 5برس بعد ڈی جی ریسکیو نے 2018 میں اچانک برطرفی کا شوکاز نوٹس دیدیا جبکہ شوکاز نوٹس میں ڈی جی ریسکیو نے ریگولر انکوائری کا حق بھی نہیں دیا ہے ، قانون کے مطابق سرکاری ملازم سے غیرجانبدار ریگولر انکوائری کا حق نہیں چھیناجا سکتا ۔

درخواستگزار وکیل کا کہنا تھا کہ اس شوکاز نوٹس سے ڈی جی ریسکیو کا کوئی  ذاتی عناد ثابت ہوتا ہے، وکیل نے استدعا کی کہ ریسکیو اہلکار کو دیا برطرفی کا شوکاز نوٹس غیرقانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

عدالت نے ریسکیو 1122اور سیکرٹری سروسز کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر اظہار برہمی اور ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ ریسکیو1122اور سیکریٹری سروسز کو جرمانہ کیا جائےفریقین نے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت کی استدعا، بعدازاں عدالت نے ریسکیو اہلکار کو دیا گیا شوکاز نوٹس معطل کرنے کے حکم میں 2فروری تک توسیع کردی۔