اہم منصوبے میں سرکاری ادارے رکاوٹ بن گئے

اہم منصوبے میں سرکاری ادارے رکاوٹ بن گئے

راؤ دلشاد حسین: میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترجیحی داتا دربار اپ لفٹنگ منصوبے کی راہ میں سرکاری ادارے ہی رکاوٹ بن گئے، لیسکو، سیف سٹی اتھارٹی، واسا، پی ٹی سی ایل کی سروسز کی منتقلی میں اداروں کی عدم دلچسپی برقرار،  ایم سی ایل نے متعلقہ سرکاری اداروں کو سروسز منتقلی کیلئے مراسلہ ارسال کردیا۔

31 دسمبر 2020 کی ڈیڈ لائن گزرنے کے پچاس روز بعد بھی 4 کروڑ 78 لاکھ 84 ہزار کا داتا دربار اپ لفٹنگ پروجیکٹ التواء کا شکار ہے۔ داتا دربار کی بیرونی سکیورٹی دیوار کی کھدائی میں سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی کا انکشاف ہوا ہے۔ لیسکو، سیف سٹی اتھارٹی، واسا، پی ٹی سی ایل کی جانب سےسروسز کی منتقلی میں عدم دلچسپی برقرار ہے۔ 

پراجیکٹ انچارج عرفان قریشی کا کہنا تھا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کو بارہا باور کرایا گیا لیکن کوئی اپنا کام کرنے کو تیار نہیں۔ لیسکو کے 132 کے وی وائر اور سروسز کی منتقلی التواء کا شکار ہے، محکمہ اوقاف کے ڈیزائن کے مطابق سکیورٹی پلان کی تعمیر کی جارہی ہے۔

منصوبے میں آر سی سی دیوار، سکیورٹی روم، واک تھرو گیٹس، ایکسرے سکینرز اور ٹائل ورکس شامل ہے۔ اکتوبر 2020 میں منصوبے کا سنگ بنیاد کمشنر لاہور ذوالفقار احمد گھمن نے رکھا تھا۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے پچاس روز بعد بھی منصوبہ صرف 60 فیصد تک مکمل ہوسکا ہے۔

سرکاری ادارے باہمی چپقلش کو ترک کردیں تو ناصرف داتا دربار اپ لفٹنگ پراجیکٹ جلدمکمل ہوسکتا ہے بلکہ شہر کے دیگر ترقیاتی منصوبے بھی بروقت پایاتکمیل کو پہنچ سکتے ہیں۔