’’بسنت پر عدلیہ جو فیصلہ کرے گی، اسے قبول کرینگے‘‘

(قذافی بٹ) وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہےکہ کرپٹ سیاستدان اداروں کو بلیک میل کر کے ان ڈائریکٹ حکومت اور اداروں سے این آر او مانگ رہے ہیں، لیکن سرکاری خزانے کو لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ بسنت پر عدلیہ جو فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا۔

 الحمرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ نوازشریف خصوصی طور پر پارلیمنٹ شہباز شریف کو سمجھانے گئے تھے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں چلنا۔ پیپلز پارٹی پر برا وقت آیا ہے تو اب (ن) لیگ کی یاد آگئی ہے۔ نوازشریف اب سادھو بن کر قوم کے سامنے آرہے ہیں خزانے لوٹتے وقت کوئی خیال نہیں آیا تھا۔ کرپشن نواز شریف میں اور نوازشریف کرپشن میں حلول ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں کرپشن لانے کا تمغہ آل شریف پر سجتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ شہباز شریف دس سال تک کیا کرتے رہے ہیں جو اب جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت میں اترے ہیں، پہلے یہ کک بیکس کا شربت پی کر مست ہوئے تھے۔ اب جنوبی پنجاب کے علمبردار بن کر سامنے آرہے ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ تحریک انصاف نے کیا ہے جسے پورا کریں گے۔

 فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ملک کی تباہی میں جرنیل اور بیوروکریٹس ملوث رہے ہیں لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ مارشل لاء دور میں معیشت پروان چڑھی ہے۔