ایل ڈی اے کے بعد کورونا کا پی ایچ اے پر وار

ایل ڈی اے کے بعد کورونا کا پی ایچ اے پر وار

( در نایاب ) کورونا نے ایل ڈی اے کے بعد پی ایچ اے کو بھی شکار بنا لیا، اہم عہدیدار میں کورونا وائرس کی تشخیص، خود ساختہ قرنطینہ میں چلے گئے۔

پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے اہم عہدے دار میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پی ایچ اے کی عہدیدار نے سترہ اپریل کو پرائیویٹ لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا تھا۔ انیس اپریل کو ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آنے پر اہم عہدیدار خودساختہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

دوسری جانب کورونا وائرس کا تشخیصی ٹیسٹ کروانے والے  ایل ڈی اے کے 21 افسران و اہلکاروں کی رپورٹس منفی آگئیں تھیں۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی گورننگ باڈی کے ممبر میجر ریٹائرڈ سید برہان علی اور ڈائریکٹر جنرل  ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے ایکسپو سینٹر ہسپتال میں زیر علاج ڈپٹی ڈائریکٹر کو گلدستے بھجوائے اور جلد صحت یابی کی دعا کی۔

زیر علاج افسر کی طرف سےایل ڈی اے کے اعلیٰ حکام، افسران اور رفقائے کار کی نیک تمناؤں پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

یاد رہے چند روز قبل ڈپٹی ڈائریکٹر  ایل ڈی اے اور ان کے بھائی میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تھیں،  ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق افسروملازمین کو دفتر بلانے کا فیصلہ ایڈیشنل ڈی جی ہیڈکوارٹر اپنے کندھوں سے اتارکر ڈی جی پرڈالنے لگے ۔

مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے  ایل ڈی اے میں حاضری کم رکھنے کی تجویز دی جاتی رہی، لازمی سروس ایکٹ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود  ایل ڈی اے کو پبلک کے لیے بند اور افسران کے لیے کھلا رکھا گیا۔

پاکستان میں  کورونا وائرس نے مزید 22 افراد کی جان لے لی جس کے بعد ملک میں مہلک وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 189 ہو گئی ہے جبکہ مختلف شہروں میں 820 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 9130 تک پہنچ گئی، سندھ میں 230، خیبرپختونخوا میں 139، بلوچستان میں 33، گلگت بلتستان میں 18 اور اسلام آباد میں  کورونا کے 10 نئے مریض سامنے آئے۔