ق لیگ کی سابقہ ایم پی اے کے قاتل کی درخواست ضمانت خارج

ق لیگ کی سابقہ ایم پی اے کے قاتل کی درخواست ضمانت خارج

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس سردار احمد نعیم نے گلبرگ میں قتل ہونے والی ق لیگ کی سابقہ ایم پی اے پروین گل کے قاتل کی درخواست ضمانت خارج کردی، ریمارکس دیتے ہوئے کہا، فرانزنک سائنس ایجنسی، اگر جدید طریقے سے شہادتیں اکھٹی کرے تو کوئی ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے ملزم غلام مصطفی ٰکی درخواست ضمانت پر سماعت کی ۔مدعی مقدمہ کی جانب سے سید فرہاد شاہ ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کوگلبرگ کے علاقہ بھابڑا میں سابق ایم پی اے پروین گل کے قتل میں ملوث کیا گیا ۔ قتل کے وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ۔ملزم بے قصور اور کئی ماہ سے جیل میں ہے، وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ ملزم کی درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل سید فریاد علی شاہ نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک سائنس ایجنسی نے ملزم کے فنگر پرنٹس لئے۔ فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ قصور وار ہے۔ ملزم سے موبائل سمیت دیگر برآمدگی بھی ہوئی،پولیس تفتیش میں بھی ملزم قصور وار ثابت ہواہے،ملزم ضمانت کا حقدار نہیں۔

سید فرہاد علی شاہ ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی ۔عدالت نے فریقین کے وکلاء کا موقف سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی۔

یاد رہے  کہ سابقہ ایم پی اے پروین شاکر سکندر گل کو  گزشتہ سال  ستمبر میں گھر میں بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ پروین غیرشادی شدہ اوراپنے گھر میں اکیلی رہتی تھیں، پروین سکندر گل کو ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے قتل کیا گیا ۔

پروین سکندر گل 2002 سے 2007 تک رکن پنجاب اسمبلی رہیں، مرحومہ پاکستان ویمن ہاکی ایسوسی ایشن کی سیکرٹری بھی تھیں، انہوں نے ہاکی کی فیلڈ میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔