’’حلف نہ اٹھانے والے اراکین اسمبلی کی نا اہلی کی کوئی گنجائش نہیں‘‘

LHC
Lahore High Court

ملک اشرف: منتخب اراکین کی نشست وقت پر حلف نہ اٹھانے کی صورت میں خالی تصور کرنے کا قانون لاہور ہائیکورٹ  میں  چیلنج کردیا گیا۔ جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ آئین میں مخصوص مدت میں حلف نہ اٹھانے والے اراکین اسمبلی کی نا اہلی کی کوئی گنجائش نہیں، پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ہونے کے باوجود بلاجواز آرڈینس پر آرڈینس جاری کرنے کا  بھی کوئی جواز نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس جواد حسن نے شہری فریدعادل کی درخواست پر سماعت کی۔ فرید عادل نے الیکشن آرڈیننس 2021ء میں تیسری ترمیم کیخلاف آئینی درخواست دائر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن آرڈیننس میں ترمیم کے ذریعے 72 اے کے ذریعے منتخب رکن اسمبلی کو 60 روز میں حلف لینے کا پابندبنایا گیا ہے۔

فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ میں وفاق کو رکن اسمبلی کے حلف اٹھانے کا وقت مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ جسٹس جواد حسن نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے، فریقین کو بلوا کر سننا ضروری ہے۔ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، عدالت آپ کے ساتھ ہے۔درخواست گزار وکیل نے کہا وفاقی حکومت اگر حلف کی مدت مقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تو صدر مملکت کیسے وہی اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔

صدر مملکت نے غیر آئینی طور پر رکن اسمبلی کے حلف کی مدت مقرر کرنے کا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت الیکشن آرڈیننس 2021ء میں تیسری ترمیم کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک منتخب اراکین اسمبلی کے حلف کی مدت مقرر کرنے کی ترمیم پر عمل درآمد روکا جائے۔

مزید استدعا کی گئی کہ عدالت مخصوص مدت میں حلف نہ اٹھانے والوں کو نااہل قرار دینے کے متعلق آرڈیننس کو کالعدم قرار دے۔ عدالت نے وفاق اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔