دورانِ تفتیش پولیس اہلکار کی لڑکی سے زیادتی

دورانِ تفتیش پولیس اہلکار کی لڑکی سے زیادتی

(سٹی 42) گوجرانوالہ میں لڑکی کو پولیس سے مدد مانگنا مہنگا پڑگیا،  لڑکی نے اوباش افراد کیخلاف تھانہ اروپ میں درخواست دی، دوران تفتیش تھانیدار نے ہی مبینہ طور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنادیا۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کو زیادتی کے بارے میں بتایا تو بیان سے منحرف ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا۔ متاثرہ لڑکی نے انصاف کے لیے سی پی او گوجرانوالہ کو درخواست دے دی۔

شیطان صفت تھانیدار نے دوران انکوائری لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ تھانے اروپ میں لڑکی نے اوباش افراد کی طرف سے جھگڑے کے دوران کپڑے پھاڑنے کی درخواست دے رکھی تھی، پولیس نے جھگڑے کے واقعہ کا انکوائری آفسر اے ایس آئی مبشر کو مقرر کیا۔ جھگڑے کا واقعہ تھانہ اروپ کے علاقے بسمہ اللہ کالونی میں 9 ستمبر کو پیش آیا۔

متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ 10 ستمبر کو گھر میں دوران تفتیش تھانیدار نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا،۔ پولیس کے اعلی افسران کو زیادتی بارے بتایا تو وہ بیان سے منحرف ہونے کا دباؤ ڈالتے رہے، اے ایس آئی مبشر اور دیگر پولیس والے قتل اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔

متاثرہ لڑکی نے انصاف کے لیے سی پی او گوجرانوالہ کو درخواست دے دی، سی پی او رائے بابر نے ایس پی صدر اور ایس پی سول لائن کو انکوائری کا حکم دیا، پولیس کے متعدد افسران پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہوگئے۔

دوسری جانب ایس پی صدر حفیظ الرحمن بگٹی کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ میں اے ایس آئی کی جانب سے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ ذیادتی کا نشانہ بنانے کے معاملے پر  متاثرہ لڑکی کے والد کی درخواست پر اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کر رہے ہیں،متاثرہ لڑکی کو میڈیکل کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی میرٹ پر تفتیش ہوگی اگر اے ایس آئی ملوث نکلا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہوگی۔