انسداد دہشتگردی کی دو عدالتیں ختم

 انسداد دہشتگردی کی دو عدالتیں ختم

مال روڈ(شاہین عتیق) حکومت پنجاب نے لاہور میں انسداد دہشتگردی کی دو عدالتیں کورٹ نمبر دو اور چار کو ختم کردیا۔ عملے کے بیس ملازمین کو فوری طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ سرپلس پول میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔

حکومت پنجاب نے دہشتگردی ایکٹ 1997ء کے تحت بنائی گئی لاہور کی دو عدالتوں کورٹ نمبر دو اور چار کو ختم کر دیا، باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ انسداد دہشتگردی کی کورٹ نمبر دو میں سانحہ ماڈل ٹائون کا کیس زیر سماعت تھا، جس کی سماعت اب دوسری عدالت میں ہو گی۔

کورٹ نمبر دو میں سترہ کیس زیر سماعت تھے جبکہ کورٹ نمبرچارمیں بیس کیس تھے۔ یہ عدالت جج عبدالقیوم خان کے ریٹائر ہونے کے بعدخالی پڑی تھی۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں گوجرانوالہ کی دو عدالتیں،ملتان کی ایک اور راولپنڈی کی دو عدالتیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

عملے کو سرگودھا نئی بنائی جانیوالی میں عدالت میں تعینات کرنے اور دیگراداروں میں لگانے کی ہدایت کی گئی ۔لاہور میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وہی پولیس چالان بھجوائے گی جس میں صرف دہشتگردی کاعنصر ہوگا۔

 دوسری جانب پنجاب حکومت نے دو ڈسٹرکٹ سیشن ججز کو انسداد دہشت گردی عدالتوں میں تعینات کر دیا۔مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد دو سیشن ججز کو انسداد دہشت گردی عدالتوں میں تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضیاء اللہ خان کو جج انسداد دہشت گردی کورٹ نمبر 3 راولپنڈی تعینات کردیا گیا جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خاور رشید کو جج انسداد دہشت گردی کورٹ بہاولپور تعینات کیاگیا۔پنجاب حکومت نے دونوں ججز کی انسدادہشت گردی عدالتوں میں تعیناتی بارے لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کردیا ، اب چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی منظوری کے بعد دونوں ججز کی خدمات پنجاب حکومت کے سپرد کی جائیں گی۔