ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں،ان کو لانے والوں کے خلاف ہے:نواز شریف


سٹی 42 :اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس شروع ہوچکی ہے،سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی شریک ہیں،سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ کن موڑ پراے پی سی منعقد ہورہی ہے،دعا ہے اللہ آصف زرداری کوصحت اوربرکت عطافرمائے،بلاول سے پرسوں بات کرکے خوشی ہوئی،کانفرنس اہم موقع پرمنعقد ہورہی ہے۔ہمارے مسائل ریاست کے اوپر ریاست ہے،قانون اور جمہوریت کو حکمرانی نہ ملی تو ملک معاشی طور پر مفلوج رہے گا،ایسے ممالک اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں رہتا۔ہمارا مقابلہ عمران خان کے ساتھ نہیں،ان کو لانے والوں کے خلاف ہے۔

نواز شریف کا اے پی سی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن مشکلات سے دوچار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں، ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں۔پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے، اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے بچے کی زبان پر ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، کیا کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی،کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟

آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے، اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے بچے کی زبان پر ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔

نیب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نیب کے کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے، یہ بات سچ ہے کہ نیب قوانین کو ختم نہ کرنا ہماری غلطی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ ادارہ انتقام کا آلہ کار بن جائے گا۔جاوید اقبال عہدے کا نازیبا استعمال کرتے پکڑا جاتا ہے لیکن ایکشن نہیں ہوتا، یہ شخص ڈھٹائی سے عہدے پر براجمان ہے، بہت جلد سب کا یوم حساب آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ نیب اپنا جواز کھو چکا ہے، صرف اپوزیشن اس کا نشانہ بنی ہوئی ہے، جو نیب سے بچتا ہے اسے ایف آئی آے کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جو ایف آئی اے سے بچ جاتا ہے اسے اینٹی نارکوٹکس پکڑ لیتی ہے اور جو وہاں سے بچ جائے اسے کسی اور کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

اے پی سی جو بھی حکمت عملی اپنائے گی مسلم لیگ ن بھرپور ساتھ دے گی،

 ہم حکومت کونکال کرجمہوریت بحال کریں گے:آصف زرداری 

اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت کونکال کرجمہوریت بحال کریں گے،یہ کوئی جمہوریت نہیں اس طرح ملک نہیں چلتے،بلاول بھٹونے پہلے دن کہا تھا کہ وزیراعظم سلیکٹڈ ہیں،

اٹھارہویں ترمیم کےذریعےسب سے زیادہ حصہ پنجاب کوملتا ہے۔

حکومت مخالف 11 جماعتیں یکجا

کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور مریم نواز سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، بی این پی عوامی اور دیگر جماعتیں شریک ہوں گی جب کہ جماعت اسلامی نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان ہے۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے کے لیے پارٹی قائدین سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کُل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جلسے جلوسوں کی تجویز  بھی پیش کی جائےگی۔دوسری جانب  وزیراعلی پنجاب کو بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کی تجویز دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز پر فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

واضح رہے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو جائن کرلیا ہے،میڈیا نے جب ان سے پوچھا کہ آپ کی تقریر پر پابندی لگادی گئی ہے تو وہ بولے کل یعنی آج  آپ سے ملیں گے۔

خیال رہے کہ ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کا اے پی سی سےخطاب سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے دکھانےکے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر حکومت نے شدید رد عمل دیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب کیا اور ان کا خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر قانونی آپشن استعمال ہوں گے۔شہباز گل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفرور مجرم سیاسی ایکٹیوٹیز کرے اور بھاشن دے-ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، یہ اتنے جھوٹے ہیں کہ بیماری پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے بھی کہا ہے کہ پیمرا قوانین میں موجود ہے کہ کوئی بھی مجرم یا مفرور ٹی وی خطاب نہیں کر سکتا۔