شہباز شریف کے بارے ایک اور عدالتی فیصلہ

شہباز شریف کے بارے ایک اور عدالتی فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(شاہین عتیق)احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار شہباز شریف کا مزید پندرہ روزہ ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوۓ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جبکہ رمضان شوگر مل میں امجد نذیر چودھری نے حمزہ شہباز کے ریفرنس کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نیب نےمنی لانڈرنگ کیس میں  گرفتار شہباز شریف کو ایک ہفتے کا ریمانڈ ختم ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا اور استدعا کہ کہ شہباز شریف کا مزید ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ شہباز شریف سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ جس پر پراسکیوٹر ملک اسد اللہ نے کہاکہ ان کو مختلف سوالات دیے گیے ہیں جن کے جوابات ہمیں شہباز شریف نےنہیں دیے۔

عدالت میں شہباز شریف نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوے کہا جناب ایک ہفتے میں صرف انہوں نے پندرہ منٹ تفتیش کی میرے پاس بار بار وہی سوال لاتے ر ہے جن کا میں جواب دے چکا ہوں میں ان کے پاس آشیانہ میں بھی 65روز ریمانڈ پر رہا اس وقت سے اب تک ان کی تفتیش مکمل نہیں ہورہی۔

عدالت میں تفتیشی نے کہا یہ جواب ہی نہیں دیتے، شہباز شریف نے کہا جب میں سوالوں کے جواب دے چکا ہوں تو کیوں مجھ سے وہی سوال کیے جاتے ہیں۔عدالت نے دونوں کے موقف سننے کے بعد نیب کو مزید ریمانڈ دینے سے انکار کردیا۔احتساب عدالت نے شہباز شریف کا نیب کو ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوے نوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ رمضان شوگر مل میں امجد نذیر چودھری نے حمزہ شہباز کے ریفرنس کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

پیشی کے بعد احتساب عدالت میں شہباز شریف نے لیگی رہنماؤں سےملاقات کیں، کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکیساتھ کراچی واقعہ کی مذمت کرتا ہوں، عمران خان کا رویہ فاشسٹ ہے، بہو بیٹی کی کچھ اقدارہوتی ہیں،پامالی کی گئی، عمران خان نے ہمیشہ ذاتیات، انتقام کی سیاست کی، عوام مہنگائی کا شکار، انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا تھا،حراست میں لینے کے بعد نیب کی ٹیم شہباز شریف کو لے کر نیب لاہور آفس پہنچ گئی تھیں۔