سنیارٹی لسٹ کیس پر دلائل مکمل،فیصلہ محفوظ

سنیارٹی لسٹ کیس پر دلائل مکمل،فیصلہ محفوظ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک محمد اشرف : لاہور ہائی کورٹ میں جیل سپرنٹنڈنٹس کی سنیارٹی سےمتعلق کیس کی سماعت،جیل سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل اعجاز اصغر پیش،عدالت نے فریقین کے وکلا کےدلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور  ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نےجیل سپرٹنڈنٹ اعجاز اصغر کی درخواست پرسماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سےظہیراحمد بابر اوررانا انتظارحسین ایڈووکیٹ نےموقف اختیار کیا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نےجیل سپرٹنڈنٹس کی سنیارٹی لسٹ مرتب کی،درخواست گزار کا سنیارٹی میں تیسرا نمبر ہے لیکن سنیارٹی لسٹ میں اسےنظرانداز کیا گیا،درخواست گزارکےساتھ بھرتی ہونے والےجیل سپرٹنڈنٹ رانا رضا کوچھ ماہ قبل پرموشن دے دی گئی۔

درخواست گزارکونظر انداز کرنا اس کےساتھ امتیازی سلوک ہے،سپریم کورٹ کےفیصلوں کے مطابق بیج میٹ افسروں کی ایک ساتھ سنیارٹی ہوگی،درخواست گزار نےاستدعاکی کہ موجودہ سنیارٹی لسٹ کو کالعدم قرار دیا جائے،مزید استدعا کی گئی کہ درخواست گزار کو دیگر بیج میٹس کےساتھ ترقی دے کرازسرنو سنیارٹی لسٹ مرتب کی جائے۔

پنجاب حکومت کی جانب سےدرخواست کی مخالفت کی گئی،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئےجیل سپرنٹنڈنٹس کی سنیارٹی لسٹ مرتب کی گئی،درخواست گزار سنیارٹی سےمتعلق براہ راست ہائیکورٹ سےرجوع نہیں کرسکتا،درخواست گزار سنیارٹی سےمتعلق تحفظات پر پنجاب سروس ٹربیونل سےرجوع کرسکتا ہے،پنجاب حکومت کےلاء افسر نےعدالت سے جیل سپرنٹنڈنٹ کی سنیارٹی سےمتعلق درخواست خارج کرنےکی استدعا کی ۔

 دوسری جانب پنجاب سروس ٹربیونل میں 5 ہزار 802 سروس اپیلیں زیرالتواء ہیں جبکہ ایک ماہ میں 969 اپیلوں کے فیصلے کیے گئے،، پنجاب سروس ٹربیونل کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی۔چیئرمین پنجاب سروس ٹریبونل جسٹس ریٹائرڈ عبدالسمیع خان کی ہدایت پر رپورٹ جاری کی گئی،رپورٹ کے مطابق پنجاب سروس ٹربیونل میں ماہ ستمبرمیں 710 نئی سروس اپیلیں دائر کی گئیں۔

ٹربیونل میں زیر سماعت 143 اپیلیں علاقائی بینچوں میں منتقل کی گئیں،ماہ ستمبر کےآغاز میں 6 ہزار 914 اپیلیں پنجاب سروس ٹربیونل میں زیر التواءتھیں،، پنجاب سروس ٹربیونل لاہور،راولپنڈی، بہاولپور،ملتان اور فیصل آباد کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ تیار کی گئی۔