پولیس افسران میں خوف خدا ختم ہوگیا: لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

پولیس افسران میں خوف خدا ختم ہوگیا: لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد قاسم خان نے شوکت علی درخواست ضمانت پر دوران سماعت ریمارکس دیئے  کہ پولیس افسروں کو یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں، ان میں خوف خدا ختم ہوگیا ہے کہ اللہ تعالی کو جواب دینا ہے، کیا  قانون صرف غریبوں کیلئے رہ گیا، پولیس کے سینئر آفیسرز آنکھیں بند کر کے بیٹھے اور ظالم کے ساتھی بنے ہوئے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد قاسم خان نے ڈکیتی مزاحمت، پولیس مقابلے میں ملوث ملزم شوکت علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، سیکرٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان اور پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے میڈیکل بورڈز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے مطابق از سرنو جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا تصور علی نے ملزم کے مقدمہ کا ریکارڈ پیش کیا، جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ ایف آئی آر اور میڈیکل رپورٹ میں واضح ہے کہ جعلی پولیس مقابلہ تھا، عدالت نے نوٹس لیا تو ملزم کو کسی اور کیس میں ملوث کر دیا گیا۔

جسٹس محمد قاسم خان نے مزید کہاکہ مدعی کا موقف ہے کہ اسے پولیس نے ناکہ پر روکا، رشوت طلب کی، نہ دینے پر بھگا کر فائر مار دیا، پولیس کہتی ہے ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا، اگر مقابلہ ہوا تو گولیوں کا ریکارڈ کہاں ہے؟، لگتا ہے اس طرح کی وارداتوں کے لیے پولیس نے پرائیویٹ اسلحہ رکھا ہوا ہے، اگر کسی پراڈو والے کیساتھ پولیس مقابلہ ہوتا تو آئی جی کے حکم پر افسران کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہوتا، غریبوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ ڈکیتی مزاحمت، پولیس مقابلے کے الزام پر  بھی گوجرانوالہ میں مقدمہ درج ہوا، ملزم بے قصور ہے، استدعا ہے ضمانت منظور کی جائے۔

 عدالت نے ناقص تفتیش پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

Sughra Afzal

Content Writer